پیپلز پارٹی کا مخلوط مستقبل: ماریہ میمن کا کالم

پیپلز پارٹی کے کئی رنگ اور کئی روپ ہیں۔ آصف علی زرداری کے زیر قیادت ایک جوڑ توڑ والی پارٹی کبھی کبھی بلاول کی نام پر نظریاتی پارٹی کے طور پر متحرک ہونے کی کوشش کرتی ہے اور کبھی اپنے آپ کو قومی پارٹی کے طور پر پیش کرتی ہے۔
گزشتہ ہفتے آصف زرداری نے پنجاب کے الیکٹبلز پر اپنا جادو چلانے کی کوشش کی جبکہ ان کے فرزند نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لفظوں کے تیر چلائے۔ دونوں طرف معاملہ ٹھنڈا ہی رہا، نہ جادو چلتا نظر آیا اور نہ تیر۔
انہی سطروں میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ پیپلز پارٹی کے تین چہرے ہیں، ایک اندرون سندھ کے لیے، ایک کراچی کے لیے اور ایک بقیہ پاکستان کے لیے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان مختلف رنگوں کا مستقبل ایک ہی سمت میں ہے اور وہ ہے مخلوط سیٹ اپ میں پیپلز پارٹی کا کردار۔
مزید پڑھیں
 گزشتہ کچھ مہینوں میں پیپلز پارٹی نے کئی مخلوط تجربے کیے ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل ہو کر احتجاجی تحریک شروع کی، اس کے ثمر کے طور پر سینیٹ کی نشست جیتی اور پھر دوسری طرف جا کر سینیٹ کی اپوزیشن لیڈری لے لی۔
پنجاب میں زرداری صاحب کی انٹری اسی طرح کے مخلوط بندوبست کی کوشش ہے۔ ن لیگ سے راہیں جدا کرنے کے بعد وہ اپنے آپ کو قابل قبول آپشن کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ن لیگ کی ’ووٹ کو عزت دو‘ والی سیاست سے متنفر ایلکٹیبلز ان کا خاص ہدف ہیں۔ اس سے پیشتر وہ چوہدری برادران کے ساتھ مل کر پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کی بھی لابنگ کر چکے ہیں۔ آگے بھی ان کا ارادہ ساؤتھ پنجاب میں اپنی جگہ بنانے کا ہے اور حتمی منصوبہ یہ کہ اگلے انتخابات میں اتنی نشستیں ہوں کہ وفاق میں مخلوط حکومت کا حصہ بنیں اور سندھ کو بدستور قابو میں رکھیں۔ 
کیا اس مخلوط مستقبل کے کوئی امکانات ہیں؟ اگر پچھلے کچھ برسوں کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست اب مکمل جوڑ توڑ کی سیاست بن چکی ہے۔
زرداری صاحب اس جوڑ توڑ کے ماہر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ پچھلے عام انتخابات میں یہ ہوا چلائی گئی کہ سندھ کے ساتھ بلوچستان میں بھی پی پی پی کا کردار ہو گا۔ ایسا دور دور تک نہیں ہوا البتہ باپ پارٹی ضرور بن گئی۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے انتخاب میں بھی کوشش ہوئی اور اب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ 

پیپلز پارٹی چاہتی ہے الیکشن کے بعد سینیٹ کا سنجرانی فارمولا قومی اسمبلی میں بھی چلے۔ (فوٹو: سینیٹ آف پاکستان)
اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو سندھ کے بعد سینیٹ اب پی پی پی کا پسندیدہ میدان ہے جہاں ن لیگ کو چھوڑ کر سنجرانی صاحب ایک قومی حکومت ٹائپ نظام کی سربراہی کر رہے ہیں۔ کراچی کے انتخاب میں پی ٹی آئی، ن لیگ اور تحریک لبیک کے مقابلے میں پی پی پی نے میدان مارا۔ اسی قسم کی تین یا چار طرفہ مقابلوں پر پیپلز پارٹی کا انحصار ہے جن میں باقی فریق ان سے بھی غیر مقبول یا ناقابل قبول ہوں۔
مخلوط مستقبل میں قابل قبول ہونے کی ایک جھلک قومی اسمبلی میں بھی نظر آتی ہے جہاں پر پیپلز پارٹی کا شہباز شریف پر بھی اعتماد ہے۔
ایک طرف سینیٹ میں اتفاق کی فضا اور دوسری طرف قومی اسمبلی میں مفاہمتی سیاست، پیپلز پارٹی کو تو غالبا انتظار ہے الیکشن کے بعد سینیٹ کا سنجرانی فارمولا قومی اسمبلی میں چلے اور مخلوط حکومت کی بڑی سی چھتری میں بھی جگہ مل جائے اور اگر پنجاب میں بھی مخلوط سسٹم چلے جس میں کوئی درجن بھر بھی سیٹیں ہوں تو کیا ہی بات ہے۔ ان خوابوں کی تعبیر کا انحصار اس بات پر ہے کہ نواز شریف سیاست سے بدستور آؤٹ رہیں اور حکومت کی کارگردگی کمزور نظر آئے۔ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی ایک مخلوط حکومت کے اہم رکن کے طور پر سامنے آئے گی۔
 کیا اگلے کچھ سال مخلوط حکومتیں لائیں گے؟ اس کے بارے میں ابھی حتمی رائے قبل از وقت ہو گی تاہم اگر سوال پیپلز پارٹی کا ہو تو ان کی امیدوں کے ہرا ہونے کے امکانات محدود ہیں۔

بلاول بھٹو نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم چلائی ہے۔ (فوٹو: پیپلز پارٹی ٹوئٹر)
ایک طرف کرپشن کے کیسز ہیں اور دوسری طرف سندھ حکومت سے آنے والی منفی خبریں۔ زرداری صاحب سے آنے والے ملاقاتیوں نے پیپلز پارٹی میں ممکنہ شمولیت کی فورا ہی تردید کی اور پنجاب میں پیپلز پارٹی دوسری تو کیا تیسری قوت بھی بنتی نظر نہیں آ رہی۔
سندھ میں تیسری حکومت میں بھی بہتری کے آثار مفقود ہیں ایسے میں اگر پیپلز پارٹی کو کہیں اور موقع ملتا ہے تو یہ ایک حیران کن امر ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو البتہ یہ امید ضرور ہے کہ باقی پارٹیاں ایک دوسرے سے لڑائی میں اتنی کمزور ہو جائیں کہ مخلوط کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے۔ یہ مخلوط مستقبل کتنا حقیقی ہے اس کے لیے تھوڑا انتظار۔