’پیپلز پارٹی ہدف ہے نہ ہی اس کے ساتھ کوئی مقابلہ‘

بدھ 9 جون 2021 15:45

مریم نواز کے مطابق استعفوں کا فائدہ تب ہوتا جب پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ایک ساتھ استعفے دیتیں (فوٹو: اے ایف پی)

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نہ ان کا ہدف ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی مقابلہ ہے۔
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں جب ان سے پیپلز پارٹی کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کوئی بہتر سوال ہے کریں۔
جسٹس شوکت عزیر صدیقی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کو سچ بولنے کی سزا نہ دی جائے، سپریم جوڈیشل کونسل اس کو اپنا کیس سمجھے۔
مزید پڑھیں
بقول ان کے ’آج جس کٹہرے میں شوکت صدیقی کھڑے ہیں، وہاں کل کوئی اور انصاف کرنے والا جج بھی ہو سکتا ہے۔‘
مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدلیہ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور شوکت عزیز صدیقی کے کیسز کو اپنے اوپر حملہ تصور کرنا چاہیے۔
امریکہ کو اڈے دیے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مریم نواز نے کہا یہ سنجیدہ معاملہ ہے، اس بارے میں بین الاقوامی میڈیا سے جو خبریں آ رہی ہیں، حکومت نے ابھی تک ان سے انکار نہیں کیا۔
انہوں نے اس صورت حال کو سچ کے مترادف قرار دیتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ ’آپ نے جو بھی ڈیل کی ہے، یا کسی کے سامنے سرنڈر کیا ہے تو پارلیمنٹ کے ذریعے قوم کو آگاہ کریں۔‘
انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’آپ نے اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے جو سودا کیا ہے، اسے جاننا عوام کا حق ہے۔‘
 آنے والے بجٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پارٹی میں مشاورت ہو رہی ہے اور حکمت علمی شہباز شریف عوام کے سامنے رکھیں گے۔
پی ڈی ایم کی جانب سے استعفے دیے جانے کے کسی امکان کے بارے میں سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ اس کا فائدہ تب ہوتا جب اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے استعفے ایک ساتھ دیے جاتے۔
ان کے مطابق ’اگر تقسیم ہو کر استعفے دیے جائیں تو اس کا فائدے کے بجائے نقصان ہوتا۔‘
مریم نواز نے مسلم لیگ ن کے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں لوڈشیڈنگ زیرو ہو گئی تھی اور موجودہ حکومت اپنی نالائقی کی وجہ سے اسے بائیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر لے گئی ہے۔