پی سی بی کا ویمن کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ، اے کٹیگری میں دو کھلاڑی شامل

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 کا اعلان کر دیا ہے۔
پی سی بی کے جاری کیے گئے بیان کے مطابق رواں سال 12 خواتین کرکٹرز کو کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال یہ تعداد نو تھی۔
مزید پڑھیں
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق کھلاڑیوں کے لیے اعلان کردہ سینٹرل کنٹریکٹ یکم جولائی سے لاگو ہوں گے۔ جن 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کیا گیا ہے ان کو اے، بی اور سی کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایمرجنگ کنٹریکٹ کی لسٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں آٹھ کھلاڑی شامل ہیں۔

ویمنز سنٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021

بسمہ معروف اور جویریہ خان کو پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ کی اے کٹیگری میں رکھا ہے۔
کٹیگری بی: عالیہ ریاض، ڈیانا بیگ اور ندا ڈار
کٹیگری سی: انعم امین، فاطمہ ثنا، کائنات امتیاز، ناہیدہ خان، نشرہ سندھو ،عمیمہ سہیل اور سدرہ نواز

ایمرجنگ ویمنز کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021

عائشہ نسیم، کائنات حفیظ، منیبہ علی صدیقی، نجیہہ علوی، رامین شمیم، صباء نذیر، سعدیہ اقبال اور سیدہ عروب شاہد
بورڈ کے مطابق انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں گذشتہ ایک سالہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ اور مستقبل میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی مصروفیات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔
قومی خواتین کرکٹ کو دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد اب دو ٹی ٹوئنٹی اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے لیے اکتوبر میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے۔
قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو دسمبر میں آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائر میں شرکت کرنی ہے۔ آئندہ سال پاکستان کو آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت کرنی ہے۔
قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوری 2021 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا، جہاں سے سکواڈ زمبابوے روانہ ہوا تھا۔ تاہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث وہ دورہ مکمل نہ کیا جاسکا۔ علاوہ ازیں، سیزن 21-2020 میں پی سی بی نے قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی ویمنز چیمپئن شپ کا بھی انعقاد کیا تھا۔

فاطمہ ثناء کو سی کٹیگری میں ترقی مل گئی ہے۔ فائل فوٹو: دا کرکٹر
جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز میں دو نصف سنچریاں سکور کرنے والی واحد کرکٹر ندا ڈار کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری سی سے بی میں ترقی دی گئی ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی دوسری کھلاڑی تھیں۔
گذشتہ سال پی سی بی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی یئر کا ایوارڈ جیتنے والی فاطمہ ثناء کو سی کٹیگری میں ترقی مل گئی ہے۔ وہ اس سے قبل ایمرجنگ کٹیگری کا حصہ تھیں۔
اس کے علاوہ 19 سالہ کرکٹر نے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس دوران انہوں نے تین اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 95 رنز بھی بنائے تھے۔
اس ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار پانے والی کائنات امتیاز کو بھی موجودہ کنٹریکٹ کی سی کٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی چار اننگز میں 111 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ تین کھلاڑیوں کو بھی پویلین کی راہ دکھائی تھی۔  
نشرہ سندھو کو بھی کٹیگری سی کا کنٹریکٹ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے ڈیانا بیگ (نو وکٹیں) کے بعد گذشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ (چھ وکٹیں) حاصل کی تھیں۔ 

عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ وہ کنٹریکٹ پانے والی تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں۔ فوٹو: کرک انفو
جنوبی افریقہ میں پاکستان کی قیادت کرنے والی جویریہ خان ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 جون سے شروع ہونے والی سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کریں گی۔ تین ٹی ٹونٹی اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والی جویریہ خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ٹاپ (اے) کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ ان کے ساتھ بسمہ معروف بھی اسی کٹیگری کا حصہ ہیں۔
فاطمہ ثناء کے علاوہ گذشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کھلاڑیوں کو اس کٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ اُدھر وکٹ کیپر سدرہ نواز کی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی ہوگئی ہے۔
چیئرآف نیشنل ویمنز سیلیکشن کمیٹی عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ وہ سیزن 22-2021 کے لیے ویمنز کنٹریکٹ پانے والی تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمدہ کارکردگی کی بدولت فاطمہ ثناء کو ایمرجنگ سے ترقی دے کر سی کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے تاہم ایمرجنگ کٹیگری میں شامل باقی آٹھوں کھلاڑیوں کو رواں سال بھی ایمرجنگ کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ندا ڈار نے جنوبی افریقہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث انہیں سی سے بی کٹیگری میں ترقی دی گئی۔ وہ پر امید ہیں کہ ندا ڈار ایک سینیئر ممبر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری نبھاتی رہیں گی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو میچز جتوانے کی کوشش کرتی رہیں گی۔