پی ٹی آئی بتائے کہ پارلیمنٹ واپس جانا ہے یا نہیں: اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، پی ٹی آئی بتائے کہ اسے پارلیمنٹ جانا ہے یا نہیں۔
جمعرات کو پی ٹی آئی کے دس اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اگر کوئی اسے تسلیم نہیں کرتا تو پھر ہم پٹیشن کیوں سنیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’منتخب نمائندوں نے پارلیمنٹ کا جو احترام کرنا تھا وہ نہیں کر رہے۔‘
پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ’ہمارے درخواست گزار حقیقت میں پارلیمنٹ میں جانا چاہتے ہیں لیکن باقی پارٹی کا اپنا فیصلہ ہے۔‘
اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف آپ کہتے ہیں پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں جا رہے دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’آپ کو پانچ دن دے دیتے ہیں آپ کنڈکٹ سے ثابت کریں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’عوام نے بھروسہ کرکے نمائندوں کو پارلیمنٹ بھجوایا ہے جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے وہ تو پارلیمنٹ جا کر بیٹھیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ کہ پی ٹی آئی اپنے استعفوں کی منظوری بھی نہیں مانتی اور پارلیمنٹ میں بھی نہیں جاتی۔
پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سے مخاطب ہو کر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’درخواست گزار پہلے پارلیمنٹ جائیں پھر عدالت میں آئیں۔‘
بیرسٹر علی ظفر نے مشاورت کے لیے عدالت سے مہلت مانگ لی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ 70سال میں عدالتیں بہت زیادہ سیاسی معاملات میں ملوث رہیں جس سے عدلیہ کے ادارے کو نقصان ہوا۔
پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’دس اراکین اپنے استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست دائر کرکے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوئے، عدالتی فیصلوں سے واضح ہے کہ استعفوں کی منظوری کے لیے خاص طریقہ کار ہے جس کی پابندی لازمی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سپیکر نے حکمران جماعت سے ملی بھگت کر کے صرف گیارہ استعفے منظور کیے جس کی آڈیو بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے، اگر تمام 123 استعفوں کو اجتماعی طور پر منظور نہیں کیا جاتا تو پھر ہم استعفے نہیں دے رہے، یہی پارٹی کی پالیسی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ صرف اراکین کے استعفوں کا معاملہ نہیں بلکہ ان کے انتخابی حلقوں کے لاکھوں ووٹروں کی نمائندگی کا معاملہ ہے۔
 انہوں نے کہا کہ ’عدالت یہ کیسے قبول کرے کہ یہ اراکین استعفوں کی منظوری کو بھی نہ مانیں اور پھر واپس پارلیمنٹ میں بھی نہ جائیں اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کریں۔ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دے گی، یہ لاکھوں ووٹروں کی نمائندگی کا معاملہ ہے جن کی نمائندگی نہیں ہو پا رہی۔ آپ اس بارے میں واضح موقف اپنائیں اور پھر عدالت میں آ جائیں۔‘
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا دس اراکین اسمبلی سپیکر سے مل کو اپنا موقف دے سکتے ہیں؟
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے مگر پہلے ان کے استعفوں کی منظوری کو معطل کیا جائے۔