پی ٹی آئی لانگ مارچ پر پنجاب کے وزیر داخلہ کا انٹرویو، ’ایک بندے کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر داخلہ کی جانب سے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے بیان پر وزیراعلٰی پرویز الٰہی نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک بندے کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں۔‘
بدھ کو پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر نے اردو نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ ’لانگ مارچ کرنے والوں کو سہولیات نہیں دی جائیں گی۔ ہم کوئی بھی سرکاری وسائل استعمال نہیں کریں گے۔ کیونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔ حکومت کو اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔‘
مزید پڑھیں
لندن میں جب ایک صحافی نے وزیراعلٰی پرویز الٰہی سے پوچھا کہ ’آپ کے وزیر داخلہ نے ایک اہم بیان دیا ہے کہ پنجاب حکومت کسی صورت بھی لانگ مارچ کو سہولت کاری فراہم نہیں کرے گی۔ تو یہ ایک عجیب سی بات نہیں ہو جائے گی کہ آپ کا لیڈر لانگ مارچ کر رہا ہے اور آپ سہولتیں نہ دیں؟‘ 
اس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلٰی پرویز الہی نے کہا کہ ’ایسی باتوں پر آپ بھی غور نہ کیا کریں۔ کیونکہ ایک بندے کا ذہنی توازن نہیں ٹھیک۔‘ 
وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’اگر بطور ہوم منسٹر آپ میرے سے پوچھتے ہیں تو ہمارا کام یہ ہوگا کہ جتنے لوگ بھی لانگ مارچ کے لیے نکلیں گے ہم انہیں سکیورٹی مہیا کریں گے۔ ایک جم غفیر ہوگا تو اس میں لوگوں کو سکیورٹی دینا بہت ضروری ہے۔ تمام سڑکیں چوک ہو جائیں گی تو ہم نے زندگی کے دیگر معمول بھی چلانے ہیں۔ اشیا کی آمدوفت کو بھی دیکھنا ہے۔ ہم تو ان سارے معاملات میں مصروف ہوں گے۔‘ 
ہوم منسٹر پنجاب نے مزید کہا تھا کہ ’ایک سیاسی کارکن کے طورپر ہم پنجاب حکومت سے کسی قسم کی مدد نہیں لیں گے۔ نہ ہم  پولیس سے کہیں گے کہ وہ جا کر کنٹینر اٹھائے نہ ہم پولیس کو کہیں گے کہ وہ آگے جا کر اسلام آباد پولیس سے لڑائی کرے۔ ہم ایسا کوئی کام نہیں کریں گے ہمارا کوئی ارادہ نہیں۔‘
وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے بعد ازاں اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنے بیان کی مزید وضاحت دیتے ہوئے ایک ٹویٹ کی کہ ’لانگ مارچ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔ جب عمران خان حکم دیں گے تو ہم ایک جماعت کے طور پہ نکلیں گے۔ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے ہم نے کبھی بھی سرکاری وسائل استعمال کیے ہیں نہ کریں گے۔‘ 
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیاق وسباق سے ہٹ کے ایسی خبریں کیوں دی جاتی ہیں۔ پنجاب پولیس لانگ مارچ کے دوران شرکا کو پنجاب میں مکمل سکیورٹی دے گی۔ ہم آمدورفت اور باقی انتظامات کے لیے کوئی سرکاری سہولت استعمال نہیں کریں گے۔‘