پی ڈی ایم میں اُس جماعت کیلئےجگہ ہے جس پراعتمادبحال ہو،شاہدخاقان

پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اعتماد توڑا

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں ہر اس جماعت کیلئے جگہ ہے جس پر اعتماد بحال ہو تاہم پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اعتماد توڑا ہے۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ملک میں احتساب کا نام نہاد عمل جاری ہے اورعدالتوں میں جو ہوتا ہے وہ ہر بارعام کے سامنے رکھتے ہیں۔عدالتوں میں کیمرے لگائیں تا کہ پتہ چلے کہ عوامی نمائندوں پر الزامات کیا ہیں۔ نیب کو کچھ نہ ملے تو بے نامی لے آتے ہیں،اثاثے یا منی لانڈرنگ لے آتے ہیں۔ چئیرمین نیب کو ان چیزوں کا کچھ علم نہیں کہ انہیں ایک دن جواب دینا ہوگا۔

بجٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بات بجٹ کی ہو تو اسمبلی کے اندر دنگل ہوتا ہے اور اسپیکرخاموش بیٹھا رہتا ہے۔ جس اسپیکر کی ارکان نہ سنتے ہوں تو اس کا عدم اعتماد ہوچکا ہے اوراس کو چاہئے کہ وہ خود گھر چلا جائے۔ایوان میں عوام کی بات کرنے کے دوران کتابوں سے حملہ ہوتا ہے اور گالی گلوچ ہوتا ہے۔ بجٹ کیلئے جھوٹ کا لفظ استعمال کیا تو وزیر خزانہ ناراض ہو گئے،اس لئےبجٹ کیلئے جھوٹ کا لفظ واپس لے لیا تاہم اس بجٹ کیلئے جھوٹ کی جگہ غلط بیانی کا لفظ رکھ دیتا ہوں۔

شاہد خاقان نے کہا کہ بجٹ میں ایسا کچھ نہیں کہ اشیائے خورونوش کی قیمت میں کمی ہوگی۔ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں وزیر خزانہ نے غریب کو ریلیف دینے کی بات نہیں کی اور حکومت نے ریلیف دینے کی کوشش ہی چھوڑ دی ہے۔

انتخابی اصلاحات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جس ملک میں الیکشن چوری ہوتا ہو وہاں کون سی انتخابی اصلاحات ہوسکتی ہیں۔ پی ٹی آئی الیکشن چوری کرنا چھوڑ دے توسب ٹھیک ہوجائے گا۔مجوزہ اصلاحات مستقبل میں دھاندلی میں آسانی کیلئے ہیں اور یہ سب پارلیمانی نظام کوختم کرکے صدارتی نظام لانے کی کوشش ہے۔50 سال قبل ملک صدارتی نظام کی وجہ سے ٹوٹا تھا۔اس حوالے سے شاہد خاقان کا مزید کہنا تھا کہ جب ووٹنگ کا نظام ہی الیکٹرانک ہوا تو دھاندلی کا ثبوت بھی نہیں ہوگا۔

اپنی جماعت سے متعلق شاہد خاقان نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون میں شہباز شریف صدر اورمیں سینئر نائب صدر ہوں جبکہ مریم نواز نائب صدر ہیں۔ جب بھی پارٹی کو ضرورت ہو تو شہباز شریف بولتے ہیں اور اصل چیز ہمارا بیانیہ ہے۔

متعلقہ خبریں