چائلڈ سولجرز پریوینشن ایکٹ، فہرست میں شامل کیے جانے پر پاکستان کی مذمت

ہفتہ 3 جولائی 2021 6:40

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’رپورٹ کی اشاعت سے قبل امریکہ کی جانب سے ہمارے کسی بھی سرکاری ادارے سے مشاورت نہیں کی گئی ہے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ’چائلڈ سولجرز پریوینشن ایکٹ کی فہرست میں نام شامل کیے جانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس فہرست میں شامل کرنا حقیقت پسندی سے انحراف اور بے بنیاد ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے امریکی رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان نے ’چائلڈ سولجرز پریوینشن ایکٹ (سی ایس پی اے) کی فہرست میں پاکستان کے نام شامل کرنے کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ سی ایس پی اے لسٹ میں پاکستان کی بے بنیاد شمولیت پر نظرثانی کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکہ بچوں کے فوجی دستوں کے لیے استعمال کرنے والے مسلح گروہوں اور ان کی حمایت کے الزامات کی ’قابل اعتماد معلومات‘ فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیں
خیال رہے کہ 18 برس سے کم عمر بچوں کو افواج اور دوسرے ریاستی یا غیر ریاستی مسلح گروہوں میں بھرتی کرنے کی روک تھام کے قانون کی فہرست میں شامل کیے جانے والے ملکوں کی فوجی امداد اور عالمی امن کے پروگراموں میں شمولیت متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’رپورٹ کی اشاعت سے قبل امریکہ کی جانب سے ہمارے کسی بھی سرکاری ادارے سے مشاورت نہیں کی گئی ہے۔ ہمیں اس حوالے سےنہ تفصیلات فراہم کی گئیں اور نہ ہی وہ معلومات دی گئی ہیں جن کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔‘
زاہد حفیظ چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ ان حالات میں پاکستان کواس فہرست میں شامل کرنا حقیقت پسندی سے انحراف ہے۔ چائلڈ سولجرز پریوینشن ایکٹ کی فہرست میں پاکستان کا نام بغیر کسی بنیاد کے شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروپ کی حمایت نہیں کرتا ہے اور نہ ہی پاکستان میں کوئی ادارہ بچوں کو بطور سپاہی بھرتی یا استعمال کرنے میں ملوث ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ غیر ریاستی مسلح گروہوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ پاکستان انسانی اسمگلنگ کی لعنت کے خاتمے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے گذشتہ ایک سال کے دوران متعدد انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات میں نیشنل ایکشن پلان 2021-25 بھی شامل ہے جس کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے ۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور انٹر ایجنسی تعاون کو وسعت دینے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔
’پاکستان سنہ 2007 سے رضاکارانہ طور پر امریکی حکومت کو ٹی آئی پی رپورٹ کے لیے معلومات جمع کروا رہا ہے۔ پاکستان ٹی آئی پی کی رپورٹس میں پیش کی گئی عملی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔‘
پاکستان نے امریکہ کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سی ایس پی اے لسٹ میں پاکستان کی شمولیت پر نظرثانی کرے۔ پاکستان اس بات کی توقع کرتا ہے کہ امریکہ بچوں کے فوجی دستوں کے لیے استعمال کرنے والے مسلح گروہوں اور ان کی حمایت کے الزامات کی ’قابل اعتماد معلومات‘ فراہم کرے گا ۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان باہمی دلچسپی کے تمام امور پر تعمیری بات چیت کے لیے متعلقہ چینلز کے ذریعے امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت میں مشغولیت کا خواہش مند ہے ۔