چچا کو قتل کرنے والے بھتیجے سمیت پانچ مجرمان کو پھانسی و قید کی سزا

دس سالہ بچےعلی شیر کو کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن سے اغوا کیا گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ کی مقامی عدالت نے دس سالہ چچا کو اغوا کے بعد قتل اور لاش جلانے کے جرم میں بھتیجے کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے جرم  میں ملوث تین دیگر افراد کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔
جمعرات کو کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج عبدالمجید ناصر نے جرم  ثابت ہونے پر ملزمان محمد مہدی، داؤد شہزاد اور افتخار احمد کو دو دو مرتبہ سزائے موت سنائی جبکہ مقتول کے بھتیجے محمد باقر کو دو مرتبہ عمر قید اور پانچویں مجرم روح اللہ کو سات سال قید کی سزا سنائی۔ 
مزید پڑھیں
استغاثہ کے مطابق دس سالہ علی شیر کو 15 فروری 2021 کو کوئٹہ کے علاقے  ہزارہ ٹاؤن سے اپنے والد کی دکان سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔
ملزمان نے بچے کے والد کو فون کر کے تین کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
پولیس کو اطلاع دینے پر ملزمان نے موبائل فون چارجر کی مدد سے گلہ گھونٹ کر مغوی کو قتل کر کے ثبوت مٹانے کی خاطر لاش کو جلا دیا تھا۔
بچے کی لاش کوئٹہ سے متصل پشین کے علاقے سرانان میں ایک پل کے نیچے برساتی نالے سے ملی تھی۔
پولیس نے کوئٹہ کے تھانہ بروری میں اغوا اور قتل کا  مقدمہ درج کیا اور تفتیش کے دوران سراغ لگا کر پانچوں مجرمان کو گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ جرم میں  بچے کا 17 سے 18 سال کی عمر کا چچا محمد باقر بھی ملوث ہے جس نے اپنے چار دوستوں کے ساتھ مل کر اغوا کا منصوبہ بنایا تھا۔ بچے کے بھائی آسٹریلیا میں ہوتے ہیں جن سے ملزمان تاوان حاصل کرنا چاہتے تھے۔
حکومت کی جانب سے مقدمے کی پیروی ڈپٹی پراسیکیوٹر زاہد علی خان نے کی تھی۔