چھانگا مانگا ان کوئٹہ،شہریوں کا خوبصورت تحفہ

ہزارہ کمیونٹی کی اپنی مدد آپ کی اعلیٰ مثال

کوئٹہ کے شہریوں نے پہاڑ کے دامن میں اپنی مدد آپ کے تحت ایک منی جنگل بنا لیا ہے جبکہ درختوں کے لگانے اور ان کی آبیاری سمیت دیگر کاموں کا بیڑہ بھی خود ہی اٹھایا ہوا ہے۔

ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اس مصنوعی جنگل کو آپس میں چندہ جمع کرکے آہستہ آہستہ پروان چڑھا رہے ہیں۔ خدمت کے جذبے سے سرشار ان شہریوں نے اس منی جنگل کو گلزار باکلو کا نام دیا ہے۔

شہر کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے یہ شہری جن میں اکثریت بزرگ افراد کی ہے اس جنگل کو وسعت دینے کی غرض سے پیسہ لگانے کے علاوہ اپنا قیمتی وقت بھی دیتے ہیں۔ درختوں کی دیکھ بھال میں یہ تمام اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

صدقہ جاریہ سمجھ کر کام کرنے والے ان افراد اس حوالے سے کسی تشہیر و تعریف کے خواہشمند نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ مختلف پرندوں کو یہاں آکر درختوں سے استفادہ کرتے اور اپنی خوراک حاصل کرتے دیکھتے ہیں تو انہیں خوشی ہوتی ہے کہ وہ لوگ ثواب کما رہے ہیں۔

جنگل قائم کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ درخت تو وہ لوگ چندہ کرکے یا کسی سے عطیہ لے کر لگا ہی لیتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں لیکن اگر حکومت بلوچستان صرف اتنا کردے کہ وہاں ڈرپ اریگیشن کے طریقہ کار کے ذریعے پانی کے پائپبس کی سہولت فراہم کردے تو اس مقامن پر کئی ہزار مزید درخت لگا دیں گے۔

متعلقہ خبریں