چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ سے قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی؟

وفاقی حکومت نے 2021-22 کے بجٹ میں عام آدمی کے لیے گاڑی خریدنے کو آسان بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ اور سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے ساڑھے 12 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔  
وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے بجٹ تقریر کے دوران یہ اعلان کیا کہ مقامی طور پر بنائی جانے والی 850 سی سی تک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سیلز ٹیکس کی شرح کو 17 فیصد سے کم کر کے 12 عشاریہ 5 فیصد کیا جا رہا ہے اور ویلیو ایڈیڈ ٹیکس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔‘  
بجٹ کے دوران حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی مراعات کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
جس کے تحت ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی 25 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ مقامی طور پر تیار کی گئی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دی گئی ہے اسی طرح ویلیو ایڈیڈ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ 

گاڑیوں کی قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی؟  

آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق ’حکومت کی جانب سے ٹیکس ریلیف کے اعلان کے بعد مقامی طور پر تیار ہونے والی چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کمی آسکتی ہے لیکن اس کا عوام کو براہ راست فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا۔‘  
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 850 سی سی سے کم تین گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں اور یقینی طور پر ان کمپنیوں کو تو اس کا فائدہ ہوگا لیکن عوام تک اس کے ثمرات نہیں پہنچیں گے۔‘  

’مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کمی آسکتی ہے‘ (فوٹو: سوزوکی ویب سائٹ)
ایچ ایم شہزاد کے خیال میں حکومت نے ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن مقامی طور پر گاڑیوں کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے کوئی میکنزم واضح نہیں کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں چھوٹی گاڑیوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔‘  
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹیکس چھوٹ دینے کے علاوہ کمپنیوں کو پابند بنائے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا تاکہ جس مقصد کے لیے ٹیکس میں کمی کی گئی ہے وہ حاصل کیا جائے اور گاڑیوں کی غیر حقیقی قیمتوں کو کم کیا جا سکے۔‘  
ایچ ایم شہزاد کے مطابق چند روز قبل ہی کچھ کمپنیوں نے 850 سی سی کی گاڑیوں کی قیمتوں میں دو لاکھ روپے تک کا اضافہ کیا ہے اور اب بجٹ میں ٹیکس مراعات کے اعلان کے بعد وہ قیمتیں دوبارہ اسی جگہ پر چلی جائیں گی جس سے عوام کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘

شوکت قریشی کے مطابق مراعات ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مدد گار ثابت ہو گا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان الیکٹرک وہیکلز اینڈ پارٹس مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل شوکت قریشی کے خیال میں سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی سے مقامی سطح پر  گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو بہت بڑا ریلیف ملے گا جبکہ کٹس کی درآمد پر بھی ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ضرور آنی چاہیے۔
انہوں نے کہا ’اگر حکومتی ٹیکس ریلیف کا براہ راست عوام تک فائدہ پہنچانا چاہیں تو دیڑھ سے دو لاکھ روپے تک قیمتیں کم ہو سکتی ہیں لیکن اس کے لیے ریگولیٹر کو گاڑیوں کی قیمتیں بڑھانے سے روکنا ہوگا۔‘ 
شوکت قریشی کے مطابق ‘مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں 165 روپے فی ڈالر کے حساب سے چارج کر رہی ہیں اب ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے تو وہ ریلیف بھی عوام کو پہنچنا چاہیے۔‘  

پاک ویلز کے مطابق نئی گاڑیوں کی قیمت میں تو کمی آئے گی تاہم پرانی گاڑیوں کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آٗے گی (فوٹو: روئٹرز)
شوکت قریشی کے مطابق بجٹ میں آٹو انڈسٹری کے لیے ٹیکس مراعات پاکستان میں الیکٹریکل وہیکل کے فروغ کے لیے کافی مدد گار ثابت ہوگی اور چھوٹی الیکٹرک گاڑی 18 سے 21 لاکھ روپے میں دستیاب ہوگی۔
ان کے مطابق’اگست کے وسط تک چھوٹی الیکٹرک کار پاکستان میں دستیاب ہوگی، جس میں 7.5 کے وی اور 10 کے وی گاڑیاں شامل ہیں۔‘  

کیا پرانی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی  کمی آئے گی؟ 

اس حوالے سے پاکستان میں پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کی سب سے بڑی ویب سائیٹ پاک وہیلز ڈاٹ کام کے سنیل سرفراز منج کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں 850 سی سی کم تین گاڑیوں کی قیمت میں ایک لاکھ روپے سے ایک لاکھ 30 ہزار روپے تک فرق آئے گا لیکن اس سے پرانی گاڑیوں کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔‘ 
انہون نے کہا کہ ’سیلز ٹیکس میں کمی کرنا حکومت کا ایک اچھا اقدام ہے لیکن اس کا عوام کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں پہنچتا یہ ایک الگ بات ہے۔‘