چین اورامریکا تناﺅکم کرنےکیلئےپاکستان کرداراداکرنےکوتیار ہے،فواد

عمران خان نےانٹرویو میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی جہت بیان کی

فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین نہ تو امریکہ اور نہ ہی افغانستان کے متحارب دھڑوں کو استعمال کرنے دے گا۔

ہفتے کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان کے نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویو کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے نیویارک ٹائمز کو اپنے انٹرویو میں امریکہ،چین اور افغانستان کے معاملات پر اپنا نکتہ نظر واضح طور پر دنیا کے سامنے رکھا ہے۔عمران خان نے اپنے انٹرویو میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی جہت بیان کی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ سیکورٹی تعلقات کی بجائے اقتصادی تعلقات پر زور دیا جبکہ ماضی میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو سیکورٹی کے تناظر سے دیکھا جاتا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے پیشکش کی کہ چین اور امریکہ کے درمیان تناﺅ کو کم کرنے کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ 1970ءکی دہائی میں بھی پاکستان نے اس وقت اپنا کردار ادا کیا تھا جب امریکہ اور چین کے درمیان تناﺅ عروج پر تھا۔وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ اور چین دونوں اقتصادی طاقتیں ہیں اوران کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے تو اس سے پوری دنیا میں بہتری آئے گی۔

پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی بھی امید ظاہر کی اور کہا کہ اگر مستقبل میں بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات ٹھیک ہوتے ہیں تو بھارت اور چین دو بڑی منڈیوں کے درمیان پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم مقام حاصل ہوگا اوراس طرح دنیا بشمول امریکہ پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکے گے۔

افغانستان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے افغانستان کے حوالے سے بھی موقف واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین نہ تو امریکہ اور نہ ہی افغانستان کے متحارب دھڑوں کو استعمال کرنے دے گا۔وزیراعظم کا موقف ہے کہ اگر افغانستان میں صورتحال خراب ہوتی ہے تو پھر ہم افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد مکمل طور پر سیل کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ پاک افغان بارڈر کے 90 فیصد علاقے پر ہم باڑ لگا چکے ہیں اور افغانستان کے ساتھ سرحد مکمل طور پر سیل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں ایک مستحکم حکومت دیکھنا چاہتا ہے، پاکستان  نے افغان طالبان کو پہلے امریکہ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کیا اورافغانستان کا حل اس انداز سے نکلنا چاہئے کہ تمام متحارب دھڑے شامل ہوں اور افغانستان میں ایک مستحکم حکومت عمل میں آئے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے اندر امن پاکستان کے لئے بہت اہم ہے اور وزیراعظم نے افغانستان کے استحکام کے لئے پاکستان کی پوزیشن واضح کی ہے،پاکستان ان کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

متعلقہ خبریں