چین میں ’شہدا کی بے حرمتی‘ پر بلاگر سلاخوں کے پیچھے

چین میں ایک مشہور بلاگر کو ’شہدا کو بدنام‘ کرنے پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو نانجنگ شہر کی عدالت نے چو زِمنگ کو جن کے چین کی ٹوئٹر جیسی ویب سائٹ ویبو پر 25 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
مزید پڑھیں
چو زِمنگ نے کہا تھا کہ گذشتہ سال چین اور انڈیا کی سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سرکاری طور پر اعلان کی گئی تعداد چار سے زیادہ ہے۔
وہ  پہلے شخص ہیں جنہیں چین کے فوجداری قانون کی نئی شق کے تحت جیل بھیجا گیا ہے جس میں ’شہدا اور ہیروز کی بدنامی‘ پر پابندی عائد ہے۔
کئی مہینوں کی خاموشی کے بعد چینی فوج نے فروری میں کہا تھا کہ گذشتہ سال جون میں متنازع گلوان وادی میں انڈین فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں ان کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
یہ چین اور انڈیا کے درمیان دہائیوں میں ہونے والی سب سے خطرناک جھڑپ تھی۔
ہلاک فوجیوں کو ‘سرحد کا دفاع کے والے ہیروز’ کے لقب سے نوازا گیا تھا۔
تاہم اپنے سوشل میڈیا پوسٹ پر چو زمنگ نے کہا تھا کہ ’ہلاکتوں کی اصل تعداد بتائی گئی سرکاری تعداد سے کئی زیادہ تھی۔‘

فروری میں چینی فوج نے کہا تھا کہ انڈین فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمانڈنگ افسر اس لیے بچ گئے تھے ‘کیونکہ وہ وہاں موجود اعلیٰ ترین افسر تھے۔‘
 کیو زمنگ کے اس بیان سے افسران میں برہمی پھیلی تھی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ چو زمنگ نے شہدا کی ساکھ خراب کی تھی اور اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔
اس 38 سالہ بلاگر کو فروری میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے ‘کریون بال’ نامی سوشل میڈیا ہینڈل پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
فروری سے اب تک چین میں پولیس نے کم از کم چھ بلاگرز کو ہلاک ہونے والی فوجیوں کو مبینہ طور پر بدنام کرنے کے الزام پر گرفتار کیا ہے۔ اس سے سرحد پر ہونے والی جھڑپ کی سیاسی حساسیت کا اندازہ ہوتا ہے۔  
بیجنگ نے سنہ 2018 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت  کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کے جنگی ہیروز اور آج کے فائر فائٹرز اور فوجیوں کی ‘بے حرمتی’ کو جرم قرار دیا گیا تھا۔