چین میں کورونا دسمبر نہیں اکتوبر 2019 میں پھیلنا شروع ہوا: نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’ممکنہ طور پر کووڈ 19 کا سبب بننے والا وائرس اکتوبر 2019 کے اوائل ہی میں پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔‘
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طبی جریدے پی ایل او ایس پیتھوجن میں شائع ایک مقامے کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی آف کینٹ کے محققین نے وائرس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کنزرویشن سائنس کے طریقے استعمال کیے اور کہا کہ ’سارس کووڈ- 2، اکتوبر کے اوائل سے نومبر کے وسط میں سامنے آیا۔
محققین کے مطابق ’وائرس کے سامنے آنے کی ممکنہ تاریخ 17 نومبر 2019 ہے اور یہ وائرس جنوری 2020 میں عالمی سطح پر پھیل چکا تھا۔‘
مزید پڑھیں
چین میں سرکاری سطح پر کورونا وائرس کا پہلا کیس دسمبر 2019 رپورٹ ہوا تھا اور اسے ’ووہان کی ہوانان سی فوڈ مارکیٹ سے جوڑا گیا۔‘
تاہم وبا کے آغاز میں جو کیسز سامنے آئے تھے ان کا سی فوڈ مارکیٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مارکیٹ تک پہنچے سے پہلے ہی یہ وائرس گردش کر رہا تھا۔
مارچ کے اختتام پر چین اور عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے شائع ایک تحقیق میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ’ہوسکتا ہے کہ ووہان کی وبا پھیلنے سے پہلے بے قاعدگی سے پھیلنے والا انسانی انفیکشن ہو۔‘

کورونا وائرس کا مقام آغاز معلوم کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت نے فروری میں چین کا دورہ کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
رواں ہفتے شائع ایک مقالے میں سیاٹل میں فریڈ ہچنسن کینسر ریسرچ سینٹر کے جیسی بلوم نے چین میں کورونا وائرس کے ابتدائی کیسز سے حذف شدہ ڈیٹا ریکور کیا ہے۔
اعدادوشمار میں دکھایا گیا ہے کہ ہوانان کی مارکیٹ سے حاصل کیے گئے نمونے سارس کو 2 کے نہیں تھے بلکہ یہ پروجینیٹر سیکوئنس کی قسم ہے جو اس پہلے موجود تھی اور چین کے دیگر حصوں میں پھیلی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ’حذف کیے گئے اعدادوشمار اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ چین کورونا وائرس کے اصل مقام آغاز کو چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔‘

چین میں سرکاری سطح پر کورونا وائرس کا پہلا کیس دسمبر 2019 رپورٹ ہوا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ہارورڈ براڈ انسٹی ٹیوٹ میں محقق علینا چن کے مطابق ’سائنس دان کیوں بین الاقوامی ڈیٹابیس کو اہم اعداد و شمار حذف کرنے کا کہیں گے جو ہمیں معلومات دیتا ہے کہ ووہان میں کورونا وائرس کا آغاز کیسے ہوا؟
آسٹریلیا کے میڈیکل ریسرچ کے ادارے کربی انسٹی ٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سٹورٹ ٹروائل کا کہنا ہے کہ ’کورونا وائرس کا مقام آغاز معلوم کرنے کے لیے خون کے نمونوں کے ٹیسٹس کی اب بھی ضرورت ہے۔‘