چین میں ہاتھیوں کے جھنڈ کا مٹرگشت جاری، ایک ہاتھی ساتھیوں سے جدا

جنوب مغربی چین میں مٹرگشت کرنے والے 15 ہاتھیوں کے جھنڈ کو مزید تباہی پھیلانے سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ ان میں سے ایک ہاتھی اپنے جھنڈ سے بچھڑ گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اکیلا ہاتھی گذشتہ چار دنوں میں اپنے دوستوں سے 12 کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔

ہاتھیوں کی نقل و حرکت پر ڈرون کیمروں کی مدد سے نظر رکھی جارہی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
چین میں حکام ان ہاتھیوں کی یونن صوبے کے گھروں اور کھیتوں میں نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
چین کا سرکاری ٹی وی اس جھنڈ کو 24 گھنٹوں براہ راست دیکھا رہا ہے اور ان کے سفر پر ڈرون کیمروں کی مدد سے نظر رکھی جارہی ہے، جبکہ ان کے راستے میں آنے والے مقامی افراد کو گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔

ہاتھی یونن صوبے میں گھومتے ہوئے پائے گئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ان ہاتھیوں کی نقل و حرکت سوشل میڈیا پر بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اب تک ہاتھیوں کے کھیتوں میں گھس کر تباہی مچانے سے کسانوں کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔

ماہرین کو ان ہاتھیوں کے اپنا گھر چھوڑنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
گذشتہ ہفتے ہاتھیوں کا یہ جھنڈ یونن صوبے کے دارالحکومت کنمنگ میں داخل ہو گیا تھا۔ حکام اور رضاکاروں نے انہیں گنجان آباد علاقوں سے دور رکھنے کے لیے ٹرکوں کا استعمال کیا تھا۔
چین کے سرکاری چینل سی سی ٹی وی کی بدھ کی ایک فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ جھنڈ ایک جنگل میں گھوم رہا ہے جبکہ ایک ہاتھی اکیلا کھیتوں میں ہے۔
اس سے پہلے کی ایک فوٹیج میں ان جھنڈ کو کیچڑ میں لیٹے اور پھر ایک صاف جگہ پر سوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

حکام نے نقصان سے بچنے کے لیے مقامی افراد کو گھروں کو خالی کرنے کا کہا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
ماہرین کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ ہاتھی کہاں جا رہے ہیں یا انہوں نے گذشتہ سال ژیشوانگبانا نیشنل نیچر ریزرو میں اپنا گھر کیوں چھوڑا۔
 یونن صوبے میں 300 جنگلی ہاتھی ہیں۔ یہ تعداد 1980 کی دہائی میں 193 تھی۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں ہاتھیوں کے دیہاتوں میں گھس کر فصل خراب کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔