چین نے ایک ارب افراد کو کورونا ویکسین کی مکمل خوراکیں لگا دیں

چین نے ایک ارب سے زیادہ افراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگا دی ہے جو اس کی کُل آبادی کا 71 فیصد بنتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے یف پی کے مطابق کورونا وائرس کا پہلا کیس چین میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد چین نے بہت جلد اپنے ملک کے اندر وبا پر قابو پا لیا تھا۔
 تاہم جنوب مشرقی حصے میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد چین اپنی پوری آبادی کو ویکسین لگانے کی کوشش میں ہے۔
مزید پڑھیں
جمعرات کو نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان می فینگ نے پریس بریفننگ کے دوران کہا کہ ’15 ستمبر تک دو ارب 16 کروڑ افراد کو ویکسین لگا دی گئی ہے۔‘
گذشتہ ماہ چینی حکام نے کہا تھا کہ چین میں 89 کروڑ افراد کو ویکسین کی دو ارب خوراکیں لگائی گئی تھیں۔
حکومت نے ویکسین لگانے کے ہدف کے بارے میں عوامی سطح پر کوئی بات نہیں کی، لیکن وبائی امراض کے ماہر ژونگ نانشان نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ رواں برس کے آخر تک ملک کی 80 فیصد آبادی کو ویکسین لگا دی جائے گی۔
چین کے جنوب مشرقی صوبے فیوجیان کو اس وقت ڈیلٹا وائرس کا سامنا ہے جس کی وجہ سے دو سو افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان میں درجنوں سکول جانے والے بچے ہیں۔
جمعرات کو چین نے مقامی سطح پر 49 کیسز رپورٹ کیے جن میں سے زیادہ تر فیوجیان میں سامنے آئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے کلسٹر کیسز کا سبب بننے کا شک سنگاپور سے پوتیان شہر میں آنے والے ایک شخص پر ہے جس پر 14 روز کے قرنطینہ کے بعد علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں، لیکن ابتدا میں اس کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا۔
سکول کھلنے کے بعد اس شخص کا 12 سالہ بیٹا اور اس کا ایک کلاس فیلو سب سے پہلے وائرس کا شکار ہوئے۔

جولائی میں 12 سے 17 برس کی آبادی کو ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا گیا تھا (فوٹو روئٹرز)
حکام کے مطابق اس کے بعد وائرس دوسری کلاسز میں پھیلنا شروع ہوا اور 36 سے زیادہ بچے متاثر ہوئے۔
جولائی میں 12 سے 17 برس کی آبادی کو ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا گیا تھا، لیکن زیادہ تعداد کو ویکسین نہیں لگی۔
حکام نے وبا پر قابو پانے کے لیے ٹارگٹڈ لاک ڈاؤن، سفری پابندیوں، بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ سمیت یکم اکتوبر کو آنے والے قومی دن سے پہلے سکول بند کر دیے ہیں۔
ژونگ نانشان نے کہا تھا کہ چینی ویکسین ڈیلٹا کے خلاف 60 فیصد موثر ہے اور بوسٹر شاٹ سے اینٹی باڈیز میں اضافہ ہوتا ہے۔ چین ڈیلٹا وائرس کے خلاف مقامی طور پر ویکسین تیار کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس کے آغاز کے حوالے سے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
کورونا وائرس کے بارے میں گُمان یہ کیا جاتا ہے کہ یہ 2019 میں چین کے شہر ووہان کی ایک ایسی مارکیٹ سے پھیلا جہاں زندہ جنگلی جانور فروخت کیے جاتے تھے، اس کے علاوہ چین پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ یہ وائرس ووہان کی ایک خفیہ لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔
اس حوالے سے جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں ہی اس وائرس کو تیار کیا گیا ہے پر ان کا کہنا تھا ‘جی ہاں۔’
اس کے بعد اقوام متحدہ نے جانچ کے لیے اپنی ٹیم چین بھیجی تھی جس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’ ’ووہان میں بھیجے گئے اپنے مشن سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا کووڈ19 وبا کا آغاز چین سے ہی ہوا۔‘

امریکہ نے عالمی ادارہ صحت کی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج پر گہری تشویس کا اظہار کیا (فوٹو اے ایف پی)
ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی ڈائریکٹر مائیکل ریان کا کہنا ہے کہ ’تمام مفروضے ہمارے سامنے ہیں، اور یقینی طور پر کسی نتیجے پر پہنچنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ وائرس چین کے اندر یا اس کے باہر شروع ہوا تھا۔ 
امریکہ نے رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، جبکہ چین نے کورونا وائرس کی تحقیقاتی رپورٹ پر امریکی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پہلے ہی عالمی ادارہ صحت کو نقصان پہنچا چکا ہے اور اب چین یا دیگر ممالک پر انگلی نہ اٹھائے۔
امریکہ نے عالمی ادارہ صحت کی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج پر گہری تشویس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کورونا وائرس پھیلنے کے ابتدائی دنوں کا ڈیٹا بھی فراہم کرے۔
خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق امریکی تحفظات پر چینی سفارتخانے کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو چین یا ان تمام ممالک پر انگلی نہیں اٹھانی چاہیے جو وبا کے دوران عالمی ادارہ صحت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔