چین کا مقابلہ کرنے بائیڈن کو یورپی یونین کی ضرورت

چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا سامنا کرنے کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن منگل کو یورپی یونین کی مدد طلب کریں گے، تاہم برسلز تجارتی اختلافات کا فوری خاتمہ چاہتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جو بائیڈن کے منتخب ہونے پر یورپ کی جانب سے جوش و خروش کا اظہار کیا گیا تھا جس کے بعد 27 یورپی یونین کے رہنماؤں کی نمائندگی کرنے والے یورپی کونسل کے صدر چارلز میشل اور یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان در لیئن بائیڈن کے ‘امریکہ کی واپسی’ کے دعوے پر مزید معلومات لیں گے۔
مزید پڑھیں
پیر کو یورپی یونین کے ایک سینیئر افسر کا کہنا تھا کہ ’جو بائیڈن کا یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز میں دو گھنٹے کا عارضی قیام ‘سب ٹھیک نہیں کرے گا لیکن سفارت کاری واپس آچکی ہے’۔
واضح رہے کہ جو بائیڈن نے نیٹو اجلاس اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ جنیوا میں ملاقات کے درمیان یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹرز میں دو گھنٹے کا عارضی قیام کیا تھا۔
شومن فاونڈیشن کے ایرک مورس کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ یورپی یونین کو ایک سخت معاشی خریف سمجھتے تھے اور ان کے دور میں ان تعلقات میں الجھاؤ کے بعد اب جو بائیڈن کشیدگی کو ختم کر کے ترجیح پر دھیان دینا چاہتے ہیں، جو کہ چین ہے۔‘
جو بائیڈن کے ساتھ سفر کرنے والے ایک سینیئر امریکی افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ صدر بائیڈن نے چین کے ساتھ مقابلے کو سنبھالنے کی حکمت عملی کو بیان کرتا ہے۔‘ ان کے مطابق ’اس حکمت عملی کے تحت جو بائیڈن ایک جیسے سوچ رکھنے والے جمہوری ساتھیوں اور اتحادیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔‘
یورپی رہنما تجارتی اختلافات ختم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ دیگر مسائل سے نمٹا جا سکے جس میں روس کو سنبھالنا شامل ہے۔

امریکہ اور یورپ کے درمیان برسوں سے تجارتی تنازعات چل رہے ہیں (فوٹو: ان سپلیش)
یورپی افسر کا کہنا تھا کہ ’دونوں جانب سے تجارت کے حوالے سے باہمی مفادات تلاش کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اس بات کا صاف اشارہ دیا جا سکے کہ ٹرمپ کے دور کے مسائل جلد پیچھے رہ جائیں گے۔‘
ہوائی جہاز بنانے والی یورپی کمپنی ایئر بس اور امریکی کمپنی بوئنگ کے درمیان 17 سال قبل تنازع شروع ہوا تھا جس میں امریکہ اور یورپ ایک دوسرے پر اپنے ملک کی کمپنیوں کو غیر قانونی طور پر سبسڈی دینے کا الزام لگا رہے تھے۔ اس پر اگلے ماہ سودا متوقع ہے۔
اس سے مشکل تنازع وہ ہے جو سٹیل پر 25 فیصد اور المونیم پر 10 فیصد ٹیکس سے متعلق تھا جو ٹرمپ نے یورپ اور اس کے دیگر قریبی اتحادیوں پر 2018 میں لگایا تھا۔
اس کے جواب میں برسلز نے اہم امریکی اشیا پر 2.8 ارب یورو کا ٹیکس لگایا تھا، ان میں بوبورن وسکی، جینز اور ہارلے ڈیوڈسن کی موٹر بائیک شامل تھیں۔

امریکہ اور یورپی یونین نے ایک دوسرے پر ٹیکس نافذ کیے تھے (فائل فوٹو: ان سپلیش)
اس کے علاوہ برسلز اور واشنگٹن روس سے متعلق بھی ایک مشترکہ فورم بنائیں گے تاکہ ماسکو کے جانب سے کیے جانے والے خلل انگیز اقدامات پر بات چیت کی جائے۔ اس فورم کا خاص فوکس غلط معلومات اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
یہ ماڈل چین کے لیے پہلے سے موجود فورم پر مبنی ہے جس کے تحت امریکہ اور یورپی یونین کا چین کی بڑھتی مقبولیت کے خلاف موقف ایک کرنے کے طریقے ڈھونڈے جائیں گے۔
ایک یورپی آفیشل نے تسلیم کیا کہ ’ماسکو پر دباؤ ڈالنے کے لیے ‘ٹرانس ایٹلانٹک اتحاد ضروری ہے۔‘
یورپی پالیسی سینٹر کے ریکاردو بورجیس دی کیسترو کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک گفتگو کا آغاز ہے، ایک عمل کا آغاز ہے، تعلقات کی پہلی بار بحالی ہے۔‘