چین کی برتھ کنٹرول پالیسی: اویغور مسلمانوں کی شرح پیدائش کم ہونے کا خدشہ

چین میں آبادی کو کنٹرول کرنے کی پالیسیوں کے باعث جنوبی سنکیانگ میں اویغور افراد اور دیگر نسلی اقلیتوں میں 20 برسوں میں 26 سے 45 لاکھ تک بچے کم پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ بات ایک جرمن محقق کی رپوٹ میں بتائی گئی ہے جو شائع کیے جانے سے قبل خصوصی طور پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں
ایڈریان زینز کی یہ تحقیق ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کچھ مغربی ممالک تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ آیا سنکیانگ میں چین کی کارروائی نسل کشی کہلائی جا سکتی ہے یا نہیں۔
ایڈریان زینز نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ تحقیق اویغور آبادی کے لیے چینی حکومت کی طویل مدتی منصوبہ بندی کے پیچھے نیت کی عکاسی کرتی ہے۔
چینی حکومت نے سنکیانگ میں اویغور اور دیگر نسلی اقلیتوں کی تعداد میں کمی کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم موجودہ اعدود و شمار کے تحت ایڈریان زینز کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کی پالیسیوں سے سنکیانگ میں ہان چینی افراد کی تعداد موجودہ 8.4 فیصد سے 25 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ ہدف صرف اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب وہ یہ کرتے رہیں جو وہ کر رہے ہیں، یعنی (اویغور) کی شرح پیدائش کو کم کرنا۔‘
دوسری طرف چین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نسلی اقلیتوں کی تعداد میں کمی کی وجہ کچھ اور ہے، جس میں ترقیاتی عناصر بھی شامل ہیں، مثلاً بہبود آبادی کی سہولیات تک رسائی وغیرہ۔

کچھ مغربی ممالک تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ آیا سنکیانگ میں چین کی کارروائی نسل کشی کہلائی جا سکتی ہے یا نہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
چین کی وزارت خارجہ نے روئٹرز کو بتایا کہ ‘سنکیانگ میں نام نہاد نسل کشی مکمل طور پر نامعقول بات ہے۔ یہ امریکہ اور مغرب میں چین مخالف طاقتوں کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتی ہے اور ان کے بھی جو چینیوں کے خلاف ہیں۔’
چین کی وزارت خارجہ کے مطابق سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سنکیانگ میں 2017 اور 2019 کے درمیان شرح  پیدائس میں کمی ‘حقیقی صورت حال کی عکاس نہیں’ اور سنکیانگ میں اویغور افراد کی تعداد ہان کی تعداد سے زیادہ ہے۔