ڈالر ریٹ میں ہیر پھیر، آٹھ کمرشل بینکوں کی فہرست کمیٹی میں پیش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں مبینہ ہیر پھیر کے ذریعے اربوں روپے کمانے والے آٹھ کمرشل بینکوں کی فہرست قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں پیش کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
سٹیٹ بینک کے مطابق ایچ بی ایل، یو بی ایل، الائیڈ بینک، نیشنل بینک، میزان بینک، بینک الحبیب، سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور حبیب میٹرو بینک نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ 
منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا۔
اجلاس کے دوران ڈالر ریٹ سے ناجائز پیسہ کمانے والے بینکوں کی فہرست کمیٹی میں پیش کی گئی۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے بتایا گیا کہ کرنسی مارکیٹ میں ہیر پھیر کرنے والوں میں 8 بینک شامل ہیں۔
قائمہ کمیٹی کے ارکان ان بینکوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک اور سیکریٹری خزانہ پر برس پڑے۔
کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ ان بینکوں نے ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر ریٹ میں 10 روپے کا فرق بھی دیکھا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے بطور ریگولیٹر بینکوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ ڈالر 245 سے بھی اوپر کیسے چلا گیا؟
کمیٹی کے رکن برجیس طاہر نے کہا کہ ’آپ لوگ کہتے تھے سیاسی عدم استحکام کے باعث ڈالر بے قابو ہے۔ اسحاق ڈار کے آنے سے ڈالر ایک ہفتے میں 12 سے 14 روپے سستا ہو گیا۔ لوگ اسحاق ڈار کو ایس ایچ او کہتے ہیں، لوگ کہتے ہیں ایس ایچ او آیا اور ڈالر ٹھیک ہو گیا، وہ کون سے 8 بینک ہیں جنہوں نے اربوں ڈالر لوٹے۔‘

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق آٹھ کمرشل بینک ڈالر ریٹ میں ہیر پھیر میں ملوث تھے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
کمیٹی کو بریفنگ کے دوران گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کی مانیٹرنگ جاتی ہے۔ ان بینکوں کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ اب تک دو ایکسچینج کمپنیوں کے لائسنس بھی معطل کر چکے ہیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ فنانشل سیکٹر کے بارے میں غیر سنجیدہ بات نہیں کرنا چاہتے، سٹیٹ بینک ثبوت کے ساتھ آگے بڑھے گا۔