ڈالر کو 200 روپے سے نیچے لائیں گے: وزیر خزانہ اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’نہ ڈالر اوپر جائے گا اور نہ ہی پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کامیاب ہوگا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عمران خان کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈیل اور ڈھیل عمران خان کی قسمت میں ہے۔‘
خیال رہے اتوار کو ٹیکسلا میں جلسے سے خطاب میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ’طاقتور حلقوں کی این آر او کی  ڈیل اور دلاسے کے بغیر اسحاق ڈار کبھی پاکستان نہیں آسکتے تھے۔‘
پیر کو نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’وہ ڈیل اور ڈھیل دونوں پر یقین نہیں رکھتے۔‘
مزید پڑھیں
انہوں ںے مزید کہا کہ ’عمران خان نے این آر او اپنی فیملی کو دیا۔‘
وزیر خزانہ نے کہا کہ ’میں عمران خان کو وارننگ دیتا ہوں کہ وہ ان میرے بارے میں منہ بند رکھیں ورنہ ان کے (عمران خان) ساتھ سرعام جنگ ہوگی۔‘
’عمران خان اپنا منہ بند رکھیں اور اخلاقی دائرے میں رہ کر بات کریں۔ ورنہ ان کی ہر بات کا جواب دے سکتا ہوں۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’اس وقت پاکستانی روپے کی قیمت ریئل ایفیکٹیو ایکسچینچ ریٹ نہیں۔ ’ڈالر کی اصل قیمت 200 سے کم ہے اور یہ 200 روپے سے نیچے آئے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت اپنی پالیسی کے تحت ڈالر کو 200 روپے سے نیچے لائے گی۔‘
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’نہ ڈالر اوپر جائے گا اور نہ ہی پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کامیاب ہوگا۔‘
مہنگائی کے حوالے سے اعدادوشمار میں ہیرا پھیری کے پی ٹی آئی کے الزام پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’وفاقی ادارہ شماریات ایک آزاد ادارہ ہے۔‘

وفاقی وزیر خزانہ کے بقول ‘جب آپ آئی ایم ایف پروگرام میں ہوتے ہیں تو وہ آپ کے اعدادوشمار کو دوربین لگا کر چیک کرتے ہیں‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
’جب آپ آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہوتے ہیں تو بین الاقوامی مالیاتی ادارے آپ کے اعدادوشمار کو دوربین لگا کر چیک کرتے ہیں۔ اس لیے اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے حوالے سے بیان پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’بطور وزیر خزانہ آئی ایم ایف کو ہینڈل کرنا میری ذمہ داری ہے۔‘
’واشنگٹن میں شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی فریز کرنے کی بات اور وہاں مفتاح اسماعیل بھی موجود تھے تو انہوں نے منع نہیں کیا بلکہ کہا کہ بورڈ سے بات کروں گا۔ میں نے وزیراعظم کو بتا کر قیمتیں کم کیں۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’اوگرا کی سمری بڑھانے کی نہیں تھی بلکہ کم کرنے کی تھی اور اس میں پٹرولیم لیوی شامل تھی جسے ہم نے واپس لیا۔‘