ڈرامہ ’دل نااُمیدتونہیں‘ پراعتراض، یمنیٰ زیدی کا ردعمل

حال ہی میں چینل ٹی وی ون کی جانب سے ڈرامہ سیریل ’دل ناامید تو نہیں‘ نشر کیا جانا شروع ہوا ہے جسے ناظرین کی جانب سے پذیرائی تو ملی، مگر پیمرا کو اس ڈرامے پر چند اعتراضات ہیں۔

پیمرا نے ٹی وی ون کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانچ دن کے اندر اندر اس میں موجود مواد کو پیمرا کے ضابطہ اخلاق سے ہم آہنگ کرے، ڈرامے میں انسانی ٹریفکنگ اور بچوں کے جنسی استحصال پر بات کی گئی ہے جبکہ یمنیٰ زیدی نے ایک جسم فروش لڑکی کا کردار ادا کیا ہے۔

بی بی سی اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں اداکارہ یمنیٰ زیدی نے اس ڈرامے کے مواد اور اس پر جاری ہونے والے نوٹس کے حوالے سے بات کی ہے۔

یمنیٰ زیدی کہتی ہیں کہ دل نا امید تو نہیں صرف اُن کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دو اور ٹریکس ہیں جو بہت ہی ضروری ہیں۔ پہلے بھی گذشتہ کچھ برسوں میں میرے پراجیکٹس پر نوٹسز (آ چکے ہیں) اور میں کبھی اس پر کوئی بیان جاری نہیں کرتی۔ لیکن دل ناامید تو نہیں بڑا خاص پراجیکٹ ہے اور جن پہلوؤں پر بات کی گئی ہے وہ بہت اہم ہیں۔ ان پر ہمیں بات کرنی چاہیے، ان پر ہمیں سوچنا چاہیے۔

پیمرا کے نوٹس کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ پیمرا نے مواد پر نوٹس کیسے جاری کر دیا، میں اس نکتے کو سمجھ نہیں پا رہی کہ ہمارے گاؤں، سرکاری سکولوں، گلی محلوں میں جو مسئلے مسائل ہوتے ہیں، اگر ہم ان پر بات نہیں کریں گے تو ہم صرف خبریں دیکھیں گے اور وہ حقیقی خبریں یہ ہوں گی کہ کسی بچے یا کسی بچی کے ساتھ یہ ہو گیا۔

یمنیٰ کہتی ہیں کہ اگر وہ کسی چیز پر سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں، اگر کوئی مواد بنایا ہے تو کم از کم اس کو نشر ہونے دینا چاہیے، پاکستانی انڈسٹری کے پاس پہلے ہی بہت کم وسائل ہوتے ہیں اس پر اگر ہم بطور انڈسٹری کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اسے نشر تو ہونے دیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں ان کے بھی خاندان ہیں، بچے ہیں، ہزار قسم کے مسئلے مسائل ہوتے ہیں، آپ اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہم صرف ساس بہو کے ڈرامے نہیں بنا سکتے، ہم رومانوی بھی بناتے ہیں، تو جب بہت ساری چیزوں کو جگہ دی جاتی ہے تو اسے بھی چھوٹی سے جگہ دینی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ پیمرا کے نوٹس سے خوش نہیں ہیں، میں نے زیادہ تر یہ دیکھا کہ لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ پیمرا کے نوٹس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس چیز پر خود انھیں نظرِثانی کرنی چاہیے کہ انھوں نے اسے نوٹس کیوں جاری کیا ہے۔

متعلقہ خبریں