’ڈرامہ لکھنے والے ساس بہو کے جھگڑوں اور سازشوں کو معافی دے دیں‘

آنگن ٹیڑھا، ستارہ اور مہرالنسا، نادان نادیہ جیسے مشہور ڈرامے لکھنے والے پاکستان کے معروف مصنف، ڈرامہ نگار اور مزاح نگار انور مقصود ایک عرصے سے ڈرامہ انڈسٹری سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں۔
انور مقصود کے معین اختر کے ساتھ مزاح پر مبنی پروگرام ’لوز ٹاک‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔ ان کے تحریر کردہ تھیٹر پلے تو سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ایک طویل عرصے سے پاکستانی ڈرامے کے لیے ان کا قلم خاموش ہے۔
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انور مقصود نے ڈرامہ نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں خود پیچھے ہٹ گیا ہوں کیونکہ ابھی جو کچھ ٹی وی پر چل رہا ہے اس کے مطابق میری جگہ بن نہیں سکتی۔‘
مزید پڑھیں
انور مقصود کہتے ہیں کہ ’اب ریٹنگ کا چکر آ گیا ہے، ڈائریکٹر پروڈیوسر ہر معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ سب کچھ طے کرتا ہے کہ کون سا اداکار چاہیے کون سا نہیں۔
انور مقصود سے جب پوچھا گیا کہ انہیں آج کل کے ڈرامے ماضی میں لکھے گئے ڈراموں سے کس طرح مختلف لگتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’شروع میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، منو بھائی ،ثریا بجیا نے ڈرامے لکھے۔ نورالہدی شاہ نے بھی بہت اچھے ڈرامے لکھے اوراپنی جگہ بنائی۔‘
’پھر یہ ہوا کہ انڈیا کے ڈرامے جب آئے تو ہمیں لگا کہ وہ ہمارے ڈراموں سے کچھ سیکھیں گے لیکن الٹا ہی ہو گیا ہمارے لکھنے والوں نے ان سے ہی سیکھنا شروع کر دیا بس یہیں سے ہمارے ڈرامے کی تباہی ہوئی۔

انور مقصود کے بقول اچھا لکھنے والے تو ایسا لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے وہ ڈرامے سے دور ہو گئے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
انہوں نے کہا کہ ’ڈائجسٹ لکھنے والوں کی اینٹری ہوئی، ہمارے ملک کی چونکہ 70 فیصد آبادی پڑھی لکھی نہیں ہے اس لیے انہوں نے ساس بہو کے جھگڑوں کو پسند کیا اور ایسا لکھنا ٹرینڈ بن گیا۔ پھر کہیں دیور بھابھی تو کہیں بڑی بہن کے منگیتر سے چھوٹی بہن کا عشق نظر آیا اب لوگ اگر یہ پسند کررہے ہیں تو کیا کہا جائے۔
انور مقصود کے بقول اچھا لکھنے والے تو ایسا لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے وہ ڈرامے سے دور ہو گئے۔
’میں تو آج کے ڈرامے کو اچھا برا کہتا ہی نہیں ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آج ڈرامہ ہے ہی نہیں یہ کیا چیز ہے بس آپ سوچیں۔
آج کے ڈرامے کی سب سے بڑی خامی کیا ہے اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’آج جلدی جلدی لکھا جا رہا ہے، لکھنے والوں پر پریشر ہے ایک ڈرامے میں جو باتیں لکھی جا رہی ہیں وہی اگلے میں بھی دہرائی جا رہی ہیں۔ یکسانیت اس قدر ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہر چینل پر ایک ہی ڈرامہ چل رہا ہے۔
انور مقصود کہتے ہیں کہ ’آج کل جو ڈرامہ لکھنے والے ہیں ایسا لگتا ہے شاید ان کے گھر میں کوئی کتاب ہی نہیں ہے۔ ڈرامہ لکھنے والے ساس بہو کے جھگڑوں اور سازشوں کو معافی دے دیں۔‘
مزاح نگاری کے حوالے سے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ ’مزاح لکھنا آسان نہیں ہے، یہ تو تلوار کی دھار پر چلنے کا نام ہے، سمجھ لیں آگ کا دریا ہے جسے پار کرنا ہے۔ کسی کی تضحیک بھی نہیں ہونی چاہیے اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر لکھا جانا چاہیے ورنہ بیہودہ مزاح لکھنا تو بہت آسان ہے، تین دن میں 20 ڈرامے لکھے جا سکتے ہیں۔

انور مقصود کا ماننا ہے کہ میزبان جس شخصیت کا انٹرویو کرے اس کے بارے میں پہلے آگاہی حاصل کرے۔ (فوٹو: سکرین گریب)
انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یہ سوچ کر نہیں لکھا کہ مجھے ایوارڈ ملے گا بلکہ میں تو ان لوگوں کو خوش نصیب سمجھتا ہوں جنہیں ایوارڈ نہیں ملتا کیونکہ ان سے اچھے کام کی توقع کی جا سکتی ہے۔ آج کسی ڈرامہ نگار کا ایک ڈرامہ کامیاب ہو جائے تو وہ اسے ہی اپنی کامیابی سمجھ لیتا ہے۔
انور مقصود کو حکومت وقت اور اہم عہدوں پر براجمان شخصیات پر تنقید کی وجہ سے دباؤ کا سامنا بھی رہا، اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’کہا جاتا تھا کہ ہماری تعریف میں بھی کچھ لکھیں تو میں کہتا تھا کہ آپ اچھا کام کریں جس دن اچھا کام کیا میں خود لکھوں گا کہنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔
انور مقصود کا ماننا ہے کہ میزبان جس شخصیت کا انٹرویو کرے اس کے بارے میں پہلے آگاہی حاصل کرے۔ ’آج کل تو میزبان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے جو شخصیت بیٹھی ہے اس نے کیا کام کیا ہوا ہے اور کیا نہیں بلکہ آج کل تو شوز میں باقاعدہ بدتمیزی ہو رہی ہوتی ہے۔
انور مقصود کے نام سے ٹوئٹر پر کافی فیک اکاؤنٹس موجود ہیں جن کے حوالے سے وہ پہلے بھی وضاحت کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میرے پاس نہ تو واٹس ایپ ہے نہ ہی جدید فون۔ میرے 11 فیک اکاؤنٹس چل رہے ہیں جن سے بدتہذیبی پھیلائی جارہی ہے رپورٹ کرکے بھی دیکھا لیکن کچھ نہیں بنا۔ بیٹے نے ایک اکاؤنٹ بنا کر دیا تھا لیکن اس کو بند کروا دیا۔
انور مقصود کہتے ہیں کہ انہوں نے ’آج تک جو کچھ لکھا وہ ثریا بجیا کی بدولت ہے، ان سے سیکھا ہے۔

انور مقصود کی بنائی ہوئی پینٹنگز کو خاصا پسند کیا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو: ٹوئٹر)
انور مقصود پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے لانگ پلے ’مہمان‘ کے ہیرو بھی تھے جو سنہ 1968 میں نشر ہوا تھا۔ انہوں نے اداکاری کرنے کا خیال کیوں ترک کیا اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اداکاری کی طرف زیادہ دھیان نہیں تھا اس لیے کم ہی کام کیا۔ ’میرا خیال ہے کہ جو لکھتا ہو اسے اداکاری نہیں کرنی چاہیے۔
انور مقصود کی تخلیقی صلاحیتیں صرف ادب تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ ایک بہت اچھے آرٹسٹ بھی ہیں اور ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز کو خاصا پسند کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سنہ 1958 سے پینٹنگ کر رہے ہیں۔ 
جب ان سے محبت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میرا دل ایک بار ٹوٹا اس کے بعد بائی پاس ہوگیا۔
اپنے سفید بالوں کے بارے میں ماضی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جب پروگرام ’نیلام گھر‘ شروع ہوا تو اس وقت طارق عزیز نے مجھے وہاں بلایا اور سوال کیا کہ آپ کے خاندان کے لوگوں کے بال سفید کیوں ہیں تو میں نے جواب دیا کہ ’جب ہم پاکستان آئے تھے تو ہمارے سامنے دو راستے تھے، ایک وہ جس سے خون سفید ہوتا ہے اور ایک وہ جس پر چل کر بال تو ہم نے بال سفید ہونے والے راستے کو ترجیح دی۔‘