ڈرون کی اجازت دیں گے نہ یہاں امریکی اڈہ قائم ہو گا:شاہ محمود

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاکستان میں ’اڈوں‘ کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔
منگل کو سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہاں کچھ دوستوں نے بات اٹھائی اور میڈیا میں قیاس آرائیاں ہوئیں کہ یہاں کوئی اڈے بن رہے ہیں۔ ماضی کو بھولیں۔ کوئی اڈا نہیں بنے گا۔‘
ان کہنا تھا کہ ’میں اس ایوان کو گواہ بنا کر اور پاکستان کے عوام کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ کوئی امریکی اڈہ پاکستان کی سرزمین پر نہیں بنے گا۔‘
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’وہ جو ڈرون حملے ہوتے رہے اور وکی لیکس میں جو چھپتا رہا اس کا بھی ذکر نہیں ہوگا۔ پاکستان کی حکومت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ پاکستان ڈرون کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی ڈرون کے ذریعے جاسوسی کی اجازت ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں واضح کردوں کہ ہم نہ کسی ڈرون کو اجازت دیں گے اور نہ کوئی امریکی اڈہ یہاں قائم ہو گا۔ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘
مزید پڑھیں
اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے میڈیا میں زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کا کوئی فوجی یا فضائی اڈہ نہیں ہے۔
پیر کو دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی قیاس آرائی بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہے اور اس سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2001 سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایئر لائنز آف کمیونیکیشن کے لیے تعاون کا فریم ورک موجود ہے۔
امریکہ نے 11 ستمبر تک افغانستان سے اپنے فوجی انخلا کا اعلان کر رکھا ہے جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ پاکستان امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 11 مئی کو اسلام آباد میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
اس کےعلاوہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے حوالے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم نے مشترکہ طور پر حکمت عملی اپنائی۔ میں او آئی سی اور عرب لیگ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی مشترکہ درخواست دی۔‘
’ہم نے سعودی وزیر خارجہ و دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ ہمیں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی رجوع کرنا چاہیے۔‘

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے حوالے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم نے مشترکہ طور پر حکمت عملی اپنائی۔‘ (فوٹو اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے بھی درخواست کی کہ وہ اس سلگتی چنگاری کو بجھانے کے لیے اور مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کے لیے اپنا کردار ادا کیجئے۔‘
افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بارے میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’بائیڈن انتظامیہ فیصلہ کر چکی ہے کہ وہ 11 ستمبر تک غیر ملکی افواج کو افغانستان سے نکال لیں گی۔ ہم نے ذمہ دارانہ انخلاء کی بات کی ہے۔‘
’اگر افغانستان میں امن ہوتا ہے تو مشرق اور مغرب کے ربط کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔‘