ڈسکہ این اے 75:ضمنی انتخاب کالعدم قرار

فائل فوٹو

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دے دیا۔ ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی انتخاب 18 مارچ کو ہونگے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 25 فروری کو ہونے والی سماعت میں چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ پولنگ کے روز ووٹر کو انتخابی ماحول نہیں ملا۔ انتخابات شفاف اور منصفانہ نہیں تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ن لیگ کی جانب سے دوبارہ انتخاب کرانے جب کہ پی ٹی آئی کی جانب سے روکے گئے نتائج جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

آج ہونے والی سماعت میں ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کیے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل علی ظفر کا آج ہونے والی سماعت میں کہنا تھا کہ تاخیر سے پہنچنے کو ٹمپرنگ سمجھنا مفروضہ ہے۔ الیکشن کمیشن ووٹنگ سے روکنے پر کارروائی کرسکتا ہے۔ انکوائری ٹرائل الیکشن کمیشن نہیں الیکشن ٹربیونل کا مینڈیٹ ہے۔ ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا قانون کی خلاف ورزی نہیں ؟ جس پر علی ظفر نے کہا میرے مطابق پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا خلاف قانون نہیں تھا، ان پریذائیڈنگ افسران نے وضاحت دے دی ہے۔

واضح رہے کہ سیالکوٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں رواں ماہ 19 فروری کو ضمنی انتخاب کا عمل شروع ہوا تھا۔

الیکشن کے روز حلقہ این اے 75 میں شدید بے نظمی بھی دیکھنے میں آئی، جہاں مشتعل افراد کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کے ملزم کو 21 فروری کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزم کا نام حمزہ بٹ ہے، جب کہ دیگر 2 نامزد ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی۔ ایس ایچ او کے مطابق دیگر نامز دونوں ملزمان مفرور ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اس حوالے سے الزام لگایا تھا کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کے گارڈز نے پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کی۔

دوسری جانب ڈسکہ الیکشن میں امیدوار کی کامیابی سے متعلق پی ٹی آئی اور ن ليگ کے الگ الگ دعوے سامنے آئے تھے۔ دونوں جانب سے پارٹیوں نے اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اصل امیدوار کی جیت کا اعللان الیکشن کمیشن کی جانب سے کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے اختتام پر پريزائیڈنگ افسران کے بہت دير سے آنے پر این اے پچھتر کے نتائج روک ليے گئے۔ ڈسٹرکٹ ريٹرننگ افسر نے ابتدائی رپورٹ میں پولیس اور مقامی انتظامیہ کو ناکام قرار ديا۔

صوبائی اليکشن کمشنر نے 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں گڑبڑ کا خدشہ ظاہر کیا۔ اليکشن کميشن کا کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب پولیس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈسکہ کے نتائج یا دوبارہ انتخاب سے متعلق فیصلہ 23 فروری بروز منگل کو ہوگا۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے آج بروز جمعرات 25 فروری کو حلقے میں 18 مارچ کو دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں