’ڈیجیٹل پاکستان خدا حافظ‘، بینک سے 25 ہزار روپے سے زائد رقم بھیجنے پر فیس

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو 25 ہزار سے زائد رقم کی ڈیجیٹل منتقلی پر فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اب ایک بینک سے دوسرے بینک رقم بھیجنا بغیر فیس کی ادائیگی ممکن نہیں ہو گا۔
سوشل میڈیا صارفین اس اقدام کو ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن سے متصادم قرار دے رہے ہیں کیونکہ امریکہ، برطانیہ سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں بینک سے بینک ٹرانزیکشن پر کوئی چارجز لاگو نہیں ہوتے اس لیے لوگ کیش کے بجائے بینکوں سے ڈیجیٹل ٹرانسفر کو ترجیح دیتے ہیں۔
سٹیٹ بینک کی جانب سے بدھ کو جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے بینکوں اور دیگر مالیاتی سروس فراہم کرنے والوں کو ہائی ویلیو ٹرانزیکشن پر کم سے کم فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم ’ہائی ویلیو‘ کی وضاحت کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے اگر ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کی ایک ماہ میں مجموعی حد 25 ہزار روپے سے زیادہ ہے تو بینک، صارفین سے ٹرانزیکش رقم پر 0.1 فیصد یا 200 روپے تک سروسز چارجز وصول کر سکیں گے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق کم آمدنی والے طبقات ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کا استعمال بلامعاوضہ جاری رکھیں گے۔ مگر بلامعاوضہ استعمال صرف ایک ماہ میں 25 ہزار روپے تک رقم بھیجنے پر ہی ہو سکتا ہے۔
گویا اگر کوئی شخص ایک ماہ میں تھوڑی تھوڑی رقم کر کے 26 ہزار بھی ٹراسنفر کرے گا تو اسے 0.1 فیصد چارجز ادا کرنے ہوں گے۔ اس طرح کُل ملا کر ایک ٹرانزیکشن پر چارجز 200 روپے سے زائد نہیں ہوں گے۔ یہ چارجز 25 ہزار سے زائد ہر نئی ٹرانزیکشن پر لاگو ہوں گے۔ تاہم بینک رقم کی مجموعی حد کو انفرادی طور پر زیادہ بھی کرسکتے ہیں۔
تاہم سٹیٹ بینک نے بینکوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے ایک ہی بینک کے اندر مختلف کھاتوں کے مابین تمام ڈیجیٹل فنڈز کی منتقلی بلامعاوضہ ہوگی۔ یعنی اگر بھیجنے والے اور وصول کرنے والے شخص کا اکاؤنٹ ایک ہی بینک میں ہے تو اس پر چارجز لاگو نہیں ہوں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال کورونا وبا کے باعث سٹیٹ بینک نے پاکستان کے تمام بینکوں اور دیگر خدمت فراہم کنندگان کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے تمام صارفین کو مفت انٹربینک فنڈ ٹرانسفر (آئی بی ایف ٹی) سروس فراہم کریں۔

صارف نیاز احمد نے لکھا کہ سٹیٹ بینک کے فیصلے سے لوگ اب کیش استعمال کریں گے جو محفوظ نہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بینک کے جاری بیان کے مطابق  پہلی سہ ماہی مالی سال 21 کے جائزے کے دوران پاکستان ریئل ٹائم انٹر بینک میکانزم (پی آر آئی ایس ایم) کے تحت 922 کھرب روپے مالیت پر مشتمل نو لاکھ 72 ہزار ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں۔
سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بینکوں کو ڈیجیٹل ٹرانسفر کی سہولت فراہم کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ یہ سہولت مستقل بنیادوں پر فراہم کرتے رہیں۔
سٹیٹ بینک نے بینکوں کو مزید ہدایت کی کہ وہ اپنے صارفین کو ایس ایم ایس، ایپس اور ای میل کے ذریعے قابل اطلاق فیس کے ساتھ معاوضہ اور مفت آئی بی ایف ٹی کی رقم کا مناسب طریقہ کار سے آگاہ کریں۔
مرکزی بینک کے مطابق ہر ڈیجیٹل لین دین کے بعد بینکوں کو اپنے صارفین کو رجسٹرڈ موبائل نمبر پر بلامعاوضہ ایس ایم ایس بھیجنا ہوگا، تاکہ انہیں لین دین کی رقم اور ان چارجز کی وصولی کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکے۔

صارفین کا ردعمل

سوشل میڈیا صارفین نے سٹیٹ بینک کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کے منافی قرار دیا ہے۔
صارف ملک نفیس الرحمن نے ٹوئٹر پر سٹیٹ بینک کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’ساری دنیا ڈیجیٹل بینکنگ کو فروغ دے رہی ہے اور ہمارا حال دیکھیں ذرا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’چارجز 25 ہزار روزانہ منتقل کرنے والوں پر لگائے جاتے ناں کہ 25 ہزار ماہانہ کی بنیاد پر۔‘

 

صارف نیاز احمد نے لکھا کہ ’یہ (فیصلہ) مضحکہ خیز ہے۔ سٹیٹ بینک لوگوں کے لیے بینکوں کا راستہ مشکل کیوں بنا رہا ہے۔ لوگ اب کیش استعمال کریں گے جو کہ محفوظ بھی نہیں۔‘

صارف محمد کاشف نے لکھا کہ ’ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کو خدا حافظ۔ دنیا کیش کے بغیر معشیت کی طرف جا رہی ہے اور دیکھیں ہمارا سٹیٹ بینک کیا کر رہا ہے۔ اس سے کیش استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔‘

سعید حسن نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ برا فیصلہ ہے اور یہ ایک سمندر پار پاکستانی کا پیغام ہے۔‘

سٹیٹ بینک کا موقف

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر کا کہنا تھا کہ ’یہ چارجز مارچ 2020 سے قبل بھی لیے جا رہے تھے، صرف کورونا کی وجہ سے بینکوں کو اس سے روک دیا گیا تھا۔
اس سوال پر کہ کیا یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن سے متصادم نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’بینکوں کو اپنی خدمات کے چارجز کسی نہ کسی سے تو لینا ہوتے ہیں۔‘
 ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے اکثر صارفین تو مہینے میں 25 ہزار روپے سے زائد کی ٹرانزیکشن نہیں کرتے۔ اس لیے زیادہ تر ٹرانزیکشنز تو اب بھی فری ہی ہوں گی۔ اس کے علاوہ صرف صفر اعشاریہ ایک فیصد چارجز لیے جائیں گے جن کی حد بھی 200 روپے سے زیادہ نہیں ہوگی۔‘
 ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’پورے ماہ جتنی بھی ٹرانزیکشنز کی جائیں ایک صارف سے زیادہ سے زیادہ 200 روپے ہی لیے جائیں گے۔‘
اس سوال پر کہ کیا نئے چارجز روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ استعمال کرنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی وصول کیے جائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے وہ تفصیلات معلوم کرکے جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کریں گے۔‘