’ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن‘ رکن ممالک کی ڈیجیٹل اکانومی کی رفتار تیز کرے گی؟

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی و معاشی تعاون اور باہمی تعلقات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدت آ رہی ہے۔ اسی جدت کی بنیاد پر دونوں ملکوں نے ہم خیال ممالک کو ساتھ ملا کر مستقبل میں ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل تعاون تنظیم ’ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن‘ کا قیام عمل میں لایا ہے۔
ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کا ہیڈ کوارٹر سعودی عرب کے شہر ریاض میں قائم کیا گیا ہے۔ تنظیمی ڈھانچے میں کونسل آف دی آرگنائزیشن سب سے بڑا فورم ہے جس میں رکن ممالک کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
تنظیم کی پہلی سربراہی سعودی عرب کو دی گئی ہے جس کے تحت سعودی وزیر برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینیئر عبداللہ بن عامر السہوا ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے صدر ہیں۔
مزید پڑھیں
تنظیم کا ایک جنرل سیکٹریریٹ ہوگا جس کا سربراہ سیکرٹری جنرل ہوگا۔ سعودی خاتون دیما الیحیٰ تنظیم کی پہلی سیکرٹری جنرل مقرر کی گئی ہیں۔
تنظیم کا پہلا وزارتی اجلاس 12 اپریل کو ورچوئل طریقے سے ہوا جس میں رکن ممالک کے وزرا نے شرکت کی۔ مشترکہ وزارتی اجلاس میں بانی رکن ممالک کے وزرائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تنظیم کے روڈ میپ، تنظیمی ڈھانچے اور گورننس ماڈل کی منظوری دی۔
سعودی عرب، پاکستان، بحرین، کویت اور اردن تنظیم کے بانی ارکان ہیں جبکہ کونسل نے پہلے وزارتی اجلاس میں ہی نائجیریا اور عمان کو بھی بانی رکن بنانے کی منظوری دی ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سعودی عرب سمیت تمام رکن ممالک کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اکانومی کے شعبے میں تعاون اور مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے تاکہ تمام ممالک یکساں مفید ہو سکیں۔
اردو نیوز سے گفتگو میں سید امین الحق نے پاکستان بحیثیت بانی رکن اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور رکن ممالک کے اعتماد پر پورا اترے گا۔ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بے پناہ افرادی قوت کا حامل ملک ہے اور ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے رکن ممالک ہمارے ماہرین سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تنظیم کے اغراض و مقاصد اور سٹریٹیجک اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور طے شدہ اہداف کے حصول میں تنظیم کے ساتھ بھرپور معاونت کے لیے تیار ہیں۔

سید امین الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان تنظیم کے پلیٹ فارم سے سعودی عرب سمیت تمام رکن ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل اکانومی کے شعبے میں تعاون کا خواہاں ہے۔ (فوٹو: پی آئی ڈی)
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ پہلے ہی ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام اور پاکستان کی اس میں بھرپور شمولیت کی منظوری دے چکی ہے۔
وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب میں بھی اس حوالے سے جن امور پر اتفاق رائے پا گیا ان کو آگے بڑھانے میں ہماری وزارت اپنا کردار ادا کرے گی۔
ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن‘ کا قیام نومبر 2020 میں عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد ڈیجیٹل اکانومی کے اس دور میں مشترکہ مقاصد کا حصول اور ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونا ہے۔
تنظیم نے دیگر ممالک، سول سوسائٹی تنظیموں، ریسرچ انسٹی ٹیوٹس اور نجی و سرکاری اداروں کو بھی تنظیم کا حصہ بننے کی دعوت دے رکھی ہے۔
ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن‘ نے اپنے لیے چار سٹریٹجک مقاصد کا تعین کیا ہے جن میں رکن ممالک کے درمیان مشترکہ طور پر ڈیجیٹل اکانومی کی رفتار کو تیز کرنا، رکن ممالک میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، رکن ممالک کے ڈیجیٹل ماحول میں بہبود، سماجی استحکام اور اجتماعیت کو فروغ دینا جبکہ گلوبل ڈیجیٹل اکانومی کی مضبوطی کے لیے مشترکہ کوششیں شامل ہیں۔
اس تنظیم کے تحت رکن ممالک ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ ترقی کے لیے پالیسیاں، ریگولیشنز، منصوبہ جات اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔

’ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن‘ نے اپنے لیے چار سٹریٹجک مقاصد کا تعین کیا ہے (فوٹو: ٹوئٹر)
 اس مقصد کے لیے انفراسٹرکچر، کاروباری معاملات، حکومتوں کی استعداد کار میں بہتری، ڈیٹا کی فراہمی اور اعتماد، اخلاقیات، ٹیکسز اینڈ ڈیوٹیز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے سلسلے میں استعداد کار میں اضافے جیسے شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ایک اندازے کے مطابق 2025 تک عالمی ڈیجیٹل معیشت کی مالیت 23 کھرب ڈالر ہو جائےگی جو کہ دنیا کی ڈی پی کا 24.3 فیصد ہوگا۔
ڈیجیٹل تعاون تنظیم  کی وساطت سے جدید ٹیکنالوجی کو سمجھنے والے نوجوانوں، خواتین، کاروباری افراد  کو گھریلو صنعت کے فروغ اور اپنےعالمی ہم عصروں کا مقابلہ کرنے اور ڈیجیٹل مسابقت کو فروغ دینے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کا بہترین موقع ملے گا۔