کابل یونیورسٹی میں خواتین اساتذہ اور طالبات کا داخلہ ممنوع

طالبان حکومت نے کابل یونیورسٹی میں طالبات اور خواتین اساتذہ کے جانے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔

افغان دارالحکومت میں کابل یونیورسٹی کے نئے ڈائریکٹر نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی میں خواتین کا داخلہ خواہ وہ اساتذہ ہوں یا طالبات غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

امریکی اخبار “نیو یارک ٹائمز” کے مطابق کابل یونیورسٹی کے  ڈائریکٹر اشرف نے پیر کے روز اپنی ٹویٹ میں لکھا “جب تک تمام افراد کے لیے اسلامی ماحول میسر نہیں آتا اس وقت تک خواتین کو یونیورسٹی آنے یا کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ کے وسط میں طالبان تحریک کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انہیں امید تھی کہ اس مرتبہ خواتین کے ساتھ طالبان کا رویہ بہتر رہے گا اور انہیں وعدے کے مطابق روزگار اور پڑھائی کا حق دیا جائے گا لیکن تاحال اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت سرکاری جامعات بند ہونے کے باعث ہزاروں طلبہ گھر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح طالبان نے امریکی یونیورسٹی پر بھی قبضہ کرلیا ہے جسے امریکا نے 10 کروڑ ڈالر سے زائد رقم سے قائم کیا تھا۔

تازہ ترین

افغانستان میں 64 کے آئین کاعارضی نفاذ متوقع
ملتان:50سالہ الیکٹریکل انجینئر بریانی فروخت کرنےپرمجبور
مسلمانوں کاقتل: عرب سوشل میڈیاپر بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کامطالبہ
لندن میں شہبازشریف پرکوئی کیس نہیں تھا،شہزاداکبر