کافی پینے سے جگر کی بیماری کے امکانات کم ہو سکتے ہیں: تحقیق

ایسپریسو سے لے کر فوری تیار ہونے والی کافی تک، یہ مشروب لاکھوں افراد کا روزانہ کا معمول ہے۔ ایک تحقیق بتاتی ہے کہ کافی پینے سے جگر کی بیماریوں کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دائمی جگر کی بیماری پوری دنیا کے لیے صحت کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
برٹش لیور ٹرسٹ کے مطابق برطانیہ میں جگر کی بیماری قبل از وقت موت کی تیسری بڑی وجہ ہے اور 1970 کے بعد اس سے اموات میں چار سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
اس نئی تحقیق سے کافی پینے کے فوائد سامنے آئے ہیں۔ اس سے پہلے تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس سے جگر کے کینسر کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے اور الکوہل سے جڑی جگر کی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
ساؤتھ ایمپٹن یونیورسٹی کے پروفیسر پاؤل روڈرک نے تحقیق کے بارے میں بتایا کہ ’یہ تحقیق برطانیہ کے ایک بڑے گروہ میں اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کافی پینا جگر کی شدید بیماری کے خلاف حفاظت فراہم کرتا ہے۔‘
بی ایم سی پبلک ہیلتھ جریدے میں پاؤل روڈرک اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ کیسے انہوں نے چار لاکھ 94 ہزار 585 شرکا سے حاصل کردہ اعدادوشمار کا تجزیہ کیا۔
تحقیق سے متعلق شرکا نے جب اس پروجیکٹ پر دستخط کیے تو ان کی عمریں 40 سے 69 سے کے درمیان تھیں۔ تین لاکھ 84 ہزار 818 نے کہا کہ شروع ہی سے انہوں نے کافی پی جبکہ ایک لاکھ نو ہزار سے زائد ایسے افراد تھے جنہوں نے کافی کبھی پی ہی نہیں تھی۔

برٹش لیور ٹرسٹ کی وینیسا ہیبڈیچ نے کہا کہ ریسرچ نے ثابت کیا کہ کافی جگر کی صحت کے لیے بہتر ہے۔ (فوٹو: فری پک)
تحقیقاتی ٹیم نے 11 سال میں جب شرکا کی صحت کا معائنہ کیا تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ تین سو ایک اموات کے ساتھ، تین ہزار چھ سو کیسز دائمی جگر کی بیماری کے اور ایک ہزار آٹھ سو 39 ایسے کیسز تھے جن کے جگر پر چربی پائی گئی۔
تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ جسامت کی جانچ، شراب نوشی اور تمباکو نوشی کو مدنظر رکھنے کے بعد وہ لوگ جنہوں نے زیادہ مقدار میں کافی پی، ان میں دائمی جگر کی بیماری اور جگر پر چربی کا خطرہ ان لوگوں سے 20 فیصد کم رہا جنہوں نے کافی پی ہی نہیں۔
کافی پینے والوں میں جگر کی دائمی بیماری سے مرنے کا خطرہ 49 فیصد کم رہا۔  

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جنہوں نے زیادہ مقدار میں کافی پی ان میں جگر کی بیماری کا خطرہ 20 فیصد کم رہا۔ (فوٹو: پکسا بے)
تاہم اس تحقیق کے کچھ حدود ہیں اور  یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ کافی خود جگر کے دائمی مرض کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ پروفیسر پاؤل روڈرک کا کہنا ہے کافی پینے سے خطرہ کم ہو سکتا ہے اور یہ جگر کی شدید بیماری کے روک تھام کے لیے موثر ہے۔
برٹش لیور ٹرسٹ کی وینیسا ہیبڈیچ نے کہا کہ ریسرچ نے یہ ثابت کیا کہ کافی جگر کی صحت کے لیے بہتر ہے۔
’تاہم یہ اہم ہے کہ لوگ صرف کافی پینے سے اپنے جگر کی صحت بہتر نہ کریں بلکہ شراب نوشی کم کریں اور صحت مند وزن رکھنے کے لیے ورزش کریں اور صحیح خوراک کھائیں۔‘