کالا دھن: پراپرٹی ڈیلرز، وکلا، جیولرز اور اکاؤنٹنٹس فیٹف کے ریڈار پر

منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو چھ نکاتی نیا ایکشن پلان دیا ہے جس کے تحت اسے پراپرٹی ڈیلرز، وکلا، جیولرز اور اکاؤنٹنٹس جیسے پیشوں پر نظر رکھنی ہے تاکہ ان کے ذریعے کالا دھن سفید نہ کیا جا سکے۔
اس ماہ دیے گئے ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان کے نکات میں سے ایک یہ ہے کہ اب پاکستان کو طے شدہ غیر نامزد مالیاتی کاروبار اور پیشوں جنہیں ادارے کی اصطلاح میں (ڈی این ایف بی پیز) کہتے ہیں کی موثر نگرانی کا نظام وضع کرنا ہے تاکہ یہ پیشے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے استعمال نہ ہوں۔
مزید پڑھیں
ایف اے ٹی ایف نے جمعے کو پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے نیا ایکشن پلان دیا تھا اور گرے لسٹ سے نکلنے کو اس پر مکمل عمل درآمد سے مشروط کیا تھا۔

ان شعبوں میں کیا اصلاحات کی جا رہی ہیں؟

اردو نیوز کے پاس دستیاب وزارت قانون کے اس سال 26 اپریل کو جاری ہونے والے ایک لیٹر کے مطابق ’منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے وکلا کے حوالے سے قواعد 2021‘ تیار کر کے چیئرمین پاکستان بار کونسل کو بھیجے گئے تھے۔
خط میں کہا گیا تھا کہ چونکہ حکومت نے پاکستان بار کونسل کو ایک خود انضباطی ادارہ قرار دے رکھا ہے اس لیے وکلا کی ریگولیشن کے لیے پاکستان بار کونسل کے چیئرمین کو یہ قواعد ملک کی تمام بار کونسلز کو جلد از جلد جاری کرنے چاہیں۔
ان قواعد کے تحت ایک وکیل اپنے کلائینٹ کے ساتھ جعلی نام یا بغیر نام کے کاروباری تعلق قائم نہیں رکھے گا اور اپنے کلائینٹس کی کمپنیوں، اثاثوں اور آمدنی کے حوالے سے جانچ پڑتال رکھے گا اور کسی مشتبہ آمدن یا سرگرمی کی صورت میں وکلا کو فائنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو اطلاع دینا ہوگی۔ اسی طرح سیاسی طور پر جانے پہچانے لوگوں کی کسی ممکنہ منی لانڈرنگ کی کوششوں سے ایف ایم یو کو آگاہ کرے گا اور مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ بھی خفیہ طور پر ایف ایم یو کو دینے کا پابند ہوگا۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد افراد کے اثاثوں کے انجماد وغیرہ کے حوالے سے بھی وکلا یقینی بنائیں گے کہ ان کی طرف سے کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔ 
جو وکلا ان قواعد کی پابندی نہیں کریں گے انہیں متعلقہ بار کونسلز کی جانب سے سزائیں اور جرمانے کیے جائیں گے۔
اسی طرح اردو نیوز کو متعلقہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ’تمام پراپرٹی ڈیلرز کو بھی خرید و فرخت کے حوالے سے کسی ممکنہ منی لانڈرنگ کی صورت میں ایف بی آر کو آگاہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔‘

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کو نئے ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط کیا ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
جیولرز کو پابند کیا گیا ہے کہ 20 لاکھ روپے سے زائد کی خریداری پر مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ بنا کر ایف بی آر کو آگاہ کریں تاکہ کسی قسم کی منی لانڈرنگ کا سدباب کیا جا سکے۔

کب تک ایف اے ٹی ایف کی ان شرائط پر عمل درآمد ہو جائے گا؟

اس حوالے سے متعلقہ ذرائع  نے اردو نیوز کو بتایا کہ سب سے پہلے تو پاکستان نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے گذشتہ سال قانون میں ترمیم کر کے ان تمام شعبہ جات کو ریگولیٹ کرنے کا نظام بنا لیا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے قانون سازی اور تکنیکی سطح پر کافی کام مکمل کر لیا ہے تاہم انسپیکشن اور عمل درآمد کے حوالے سے کام آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایکشن پلان کے تمام چھ نکات پر عمل کے لیے پاکستان کو تقریبا ایک سال کا وقت درکار ہوگا۔ 
دی نیوز سے وابستہ معاشی امور کے صحافی مہتاب حیدر کے مطابق ’ایف بی آر پہلے ہی انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن (آئی اینڈ آئی) اور ان لینڈ ریونیو سروس (آئی آر ایس) کے تحت ڈی این ایف بی پیز تشکیل دے چکا ہے اور اب تک 50 ہزار کے قریب رئیل سٹیٹ ایجنٹوں، جیولرز، اکائونٹنٹس اور وکلا کو نوٹسز بھیجے جا چکے ہیں اور ان کی متعلقہ باڈیز سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایف بی آر کی مشاورت سے ایسا طریقہ کار بنائیں جس سے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری ہوسکیں۔‘
مارچ 2021 میں رئیل سٹیٹ ایجنٹوں کو بھیجے گئے تحریری نوٹسز میں کہا گیا تھا کہ آپ کو جو سوال نامہ بھجوایا گیا تھا اسے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت بروقت جمع کرنے کا کہا گیا تھا لیکن آپ یاد دہانی کے باوجود اسے جمع کرنے میں ناکام رہے۔

ایکشن پلان کے تمام چھ نکات پر عمل کے لیے پاکستان کو تقریبا ایک سال کا وقت درکار ہوگا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ ’اب چاروں شعبوں کے افراد کو اپنے کلائنٹس کی مشکوک ٹرانزیکشنز کو رپورٹ کرنا ہے اور ان کا ڈیٹا اپنے پاس رکھنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے حوالے سے اب تک خاصی پیش رفت کر لی ہے اور سنہ 2019 میں ایف اے ٹی ایف نے اس حوالے سے 100 کے قریب خامیوں کی نشاندہی کی تھی جن میں سے اب صرف چند رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزید خامیوں پر قابو پانے میں تقریبا ایک سال کا وقت درکار ہوگا تاہم پاکستان کو اب اس شعبے میں اب صلاحیت اور نظام دونوں کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔