کالعدم تحریک لبیک کی پابندی کےخاتمے کیلئے وزارت داخلہ کودرخواست

TLP

فوٹو: آن لائن

کالعدم تحریک لبیک نے پابندی کے خاتمے کے لیے حکومتی فیصلے پر نظرثانی کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دے دی۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے درخواست کا جائزہ لینے کے لیے کل اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا۔

اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک کی نظرثانی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت کی درخواست پر ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ کالعدم ٹی ایل ہی کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں پرتشدد مظاہرے کیے گئے، جس پر وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگا دی تھی۔

کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے دھرنا ختم کردیا

مظاہرہوں کا آغاز اس وقت شروع ہوا جب 12 اپریل کو ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو لاہور میں پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

منگل 20 اپریل کو کالعدم تحریک لبیک نے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے کے بعد لاہور کے ملتان روڈ پر جاری مرکزی دھرنا ختم کر دیا۔

قومی اسمبلی سے منظور کی گئی قرارداد

قرارداد کے متن کے مطابق ایوان متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیپڈو کی طرف سے یکم ستمبر 2020 کو ناموس رسالت کی گستاخی اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعات کی پرزور مذمت کرتا ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے معاملہ پر بحث کی جائے، تمام یورپی ممالک بالخصوص فرانس کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے اور تمام مسلم ممالک سے معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور اس مسئلے کو اجتماعی طور پر بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔

ٹی ایل پی سربراہ سعد حسین رضوی گرفتار، شہرشہر مظاہرے

ایوان میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ بین الاقوامی تعلقات کے معاملات ریاست کو طے کرنا چاہیئے اور کوئی فرد، گروہ یا جماعت اس حوالے سے بے جا غیرقانونی دباؤ نہیں ڈال سکتا۔

اسکے علاوہ صوبائی حکومتیں تمام اضلاع میں احتجاج کے لیے جگہ مختص کریں تا کہ عوام الناس کے روزمرہ کے معمولات زندگی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

حکومت اور ٹی ایل پی کا سال 2020 میں ہونے والا معاہدہ کیا تھا؟

پاکستان کی وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

حال ہی میں تحریک لبیک نے کورونا وائرس وبا کے باوجود 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ خبریں