کتوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی کورونا کی نئی قسم دریافت

پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور اس کے بارے میں سائنسدانوں کی ریسرچ جاری ہے۔ 
ایک حالیہ تحقیق میں امریکہ اور ملائیشیا کے سائنسدانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کتوں سے انسانوں میں وائرس کی ایک قسم منتقل ہوسکتی ہے۔
الرجل ویب سائٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ملائیشیا میں 300 لوگوں کے ٹیسٹ کیے ہیں، جن میں آٹھ بچے ایسے وائرس کا شکار تھے جو اس سے قبل نہیں دیکھا گیا ہے۔ یہ ٹیسٹ ان کے ناک سے لیے گئے نمونے سے کیے گئے۔
مزید پڑھیں
سائنسدانوں نے اس قسم کو “C-Cove-HUBN-2018” کا نام دیا ہے۔
اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے صرف کتے ہی اس وائرس سے متاثر ہوتے تھے، لیکن اب اس نے انسانوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
تاہم وائرس کی اس نئی قسم کا ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہونے کا عمل ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا، اور یہ کہ کس طرح یہ انسانی قوت مدافعت کو متاثر کرتا ہے یہ ابھی تک غیر واضح ہے۔
اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیقی سائنسدان انستازیہ ولاسووا نے اس تحقیق کو مسترد کیا کہ دنیا کو وائرس کی کسی نئی وبائی بیماری کا سامنا ہوسکتا ہے، لیکن انہوں نے اس معاملے میں مکمل اطمینان کا اظہار نہیں کیا، کیونکہ مستقبل میں یہ پریشانی کا باعث ہو سکتی ہے۔

امریکہ اور ملائیشیا کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ کتوں سے انسانوں میں وائرس کی ایک قسم منتقل ہو سکتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
نئی قسم کے وائرس سے متاثرہ کتے ہاضمے کی پریشانی کا شکار تھے، اور یہ علامت انسانوں میں نہیں تھی بلکہ متاثرہ افراد سانس کی مشکلات اور دیگر علامات میں مبتلا تھے۔
سائنسدان اس بات پر خوش ہیں کہ وائرس کی نئی قسم کے متاثرہ سات آٹھ مریض تندرست ہوگئے تھے اور صرف چھ دن بعد ہی انہیں ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی تھی۔