کرائسٹ چرچ حملوں پر مجوزہ فلم سے نیوزی لینڈ کے مسلمان ناراض کیوں؟

جمعہ 11 جون 2021 22:09

جاسنڈا آرڈرن پہلے ہی اس منصوبے سے اپنے آپ کو دور کر چکی ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2019 میں دو مساجد پر ہونے والے حملے سے نمٹنے میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے کردار پر فلم سازی کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کو ’سفید فام نجات دہندہ‘ بننے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ 
اس فلم کو نیوزی لینڈ کے فلم ساز اینڈریو نیکول نے لکھا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی جریدے ’دا ہالی وڈ رپورٹر‘ کے مطابق  ‘دے آر اس’ (وہ ہم ہی ہیں) نام سے مجوزہ فلم کرائسٹ چرچ میں ایک نسل پرست سفید فام شخص کے دو مساجد پر خوفناک حملوں اور اس کے بعد وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے اقدامات پر مرکوز ہوگی۔
کرائسٹ چرچ حملے میں 51 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں کچھ پاکستانی بھی شامل تھے۔
فلم میں جسینڈا کو ایک متاثر کن کردار کے طور پر دکھایا گیا جنہوں نے حملے کے بعد نیوزی لینڈ کے شہریوں اور حکومت کو اپنے اتحاد کے پیغام کے ذریعے متحد کیا۔ فلم کا موضوع جیسنڈا آرڈرن کی ایک تقریر سے ہی لیا گیا ہے۔
جیسے ہی فلم کی خبر نیوزی لینڈ پہنچی تو مقامی میڈیا نے اس پر تنقید کرنا شروع کر دی کہ اس حملے میں جیسنڈا آرڈرن کو مرکز نگاہ رکھنے کے بجائے کرائسٹ چرچ کے مسلمانوں کو مرکز رکھنا چاہیے تھا جو کہ اس حملے کے بات سے اب تک صدمے میں ہیں۔

کرائسٹ چرچ حملے میں 51 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں کچھ پاکستانی بھی شامل تھے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
نیوزی لینڈ کے ایک مقامی جریدے سٹف این زی کے مطابق کرائسٹ چرچ کی مسلمان برادری کو اس بات پر تشویش ہے کہ ان سے اس معاملے میں مشورہ کیوں نہیں کیا گیا۔ آیا العمری، جن کے بھائی اس حملے میں مارے گئے تھے اور انہیں اس کی خبر سوشل میڈیا سے ملی، کا کہنا تھا کہ ‘فلم کا تناظر جانے بغیر فلم کو مثبت انداز میں لینا مشکل ہو گا اور میرے خیال میں اس فلم کے ذریعے ان واقعات سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور میرے خیال میں نیوزی لینڈ میں اس کی پذیرائی نہیں ہو گی۔’
کرائسٹ چرچ کی مسلم ایسوسی ایشن کے ترجمان عابدیگانی علی نے کہا کہ ‘اگرچہ حملوں کے بعد وزیراعظم کا ردعمل قابل تحسین تھا، تاہم ہم اس فلم کے وقت پر سوال کر رہے ہیں کہ ابھی اس فلم کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟’
جیسنڈا آرڈرن پہلے ہی اس منصوبے سے اپنے آپ کو الگ کر چکی ہیں۔ انہوں نے سٹف این زی کو بتایا تھا کہ ‘نہ میں اور نہ ہی میری حکومت اس فلم میں کسی بھی طرح سے شامل ہیں۔’