کراچی:سينيئر وکيل پرحملہ کرنےوالےکتوں کےمالک کوگرفتارکرنےکا حکم

کراچی کےعلاقے ڈيفنس ميں سينيئر وکيل پر حملہ کرنے والے کتوں کے مالک کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی ہے۔عدالت نے ملزم ہمایوں خان کی عبوری ضمانت منسوخ ہونے پر انھیں گرفتارکرنے کا حکم دیا ہے۔

ہفتے کو کراچی سٹی کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج جنوبی کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے جمعہ کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے بتایا کہ بظاہرملزم کی جانب سےمجرمانہ غفلت برتی گئی۔ کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے وکیل کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ عدالت نے پولیس کو ملزم کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری میں ہفتہ 26 جون تک توسیع کی گئی تھی۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم واقعے پر شرمندہ ہیں اور ان کا اس واقعے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں اوراس واقعے کے ملزمان میڈیا پر آکر بھی معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

وکیل مدعی مقدمہ ايڈووکيٹ حق نواز نے کہا کہ ملزم کی بدنیتی اور مجرمانہ غفلت واضح ہے ۔ وکیل صفائی ٹرائل کے دوران دلائل دے سکتے تھے لیکن ضمانت کی سماعت میں ان پہلوؤں کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ وکیل مدعی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزم کی ضمانت منسوخ کی جائے کیوں کہ ملزم کے فعل نے ذمہ دار شہری کی جان کو خطرے میں ڈالا۔

حق نواز ایڈوکیٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعے کے3عینی شاہد موجود ہیں۔ کتے کا مالک تفتیشی افسر سے تعاون کرنے کو تیار نہیں اور کل یہ کتے کسی اور کو بھی کاٹیں گے۔ وکيل مدعی کا کہنا تھا کہ راہ گیروں سے سڑک پر چلنےکاحق چھین لیا جائے گا،ایسے واقعات بار بار ہورہے ہیں اور ہم معاشرے کی بہتری کیلئے کھڑے ہیں۔

عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ اس حوالے سے جسٹس آفتاب گورڑ کا حالیہ فیصلہ بھی موجود ہے۔ وکیل مدعی کا کہنا تھا کہ یہ با اثر لوگ ہیں مگر قانون سب کیلئے برابرہے۔اس کیس کو مثال بننا چاہيے تا کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

 جمعہ کو کراچی سٹی کورٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ملزم ہمایوں علی خان نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد سے ہی ہر کسی سے بات کرنے اور معافی مانگنے کو تیار ہوں۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بھی مرزا اخترکے بیٹے سے معافی مانگی اور نہ کہیں چھپ رہا ہوں اور نہ بھاگ رہا ہوں۔ ملزم نے بتایا کہ جیسے ہی ان صاحب سے متعلق معلوم ہوا،فورا ان کو ٹیلی فون کرکے خیریت معلوم کی تھی۔

اس سے قبل بدھ کو سیشن عدالت میں کتوں کے مالک ہمایوں خان پیش نہیں ہوئے تھے اور اُن کے وکیل نے میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کردیا۔ مرزا اختر ایڈووکیٹ کے وکیل  نعیم قریشی نے موقف اختیار کیا کہ ملزم ہمایوں خان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جعلی ہے،ملزم کا پاسپورٹ ضبط کرکے نام ای سی ایل میں ڈالاجائے۔

سینیئروکیل مرزا اختر ایڈووکیٹ پر 16 جون کو صبح 6 بجے کتوں نے اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ اپنے گھر کے قریب واک کررہے تھے۔ اس واقعےکا مقدمہ درخشاں تھانے میں درج ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 289، 337 اور 34 شامل ہیں۔

زخمی شہری نے کتے کے مالک اور 2 ملازمين کیخلاف مقدمہ درج کروايا ہے جس کے مطابق صبح 6 بج کر 20 منٹ پر گھر کے پالتو کتوں نے ان پر حملہ کیا جس سے ان کا ہاتھ زخمی ہوگیا۔

مرزا علی نے پولیس کو بتایا کہ جب کتوں نے حملہ کیا تو 2 افراد آئے اوران کی مدد کرنے کے بجائے کتوں کو وہاں سے لے گئے۔واقعے میں زخمی ہونے والے مرزا اختر کو ایک شہری نے اپنی گاڑی میں فوری طور پر ضیاء الدین اسپتال کلفٹن منتقل کیا تھا۔

اینیمل ایکٹوسٹ صدف عارف کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو دیکھ کرلگتا ہے کہ دونوں پالتو کتوں کو تربیت نہیں دی گئی جبکہ اگر ویڈیو میں مالک کو دیکھا جائے جو انہیں روکنے کی کوشش کررہا ہے وہ بھی صحیح طریقے سے  تربیت یافتہ نہیں تھا۔ صدف عارف نے کہا کہ شہر میں مختلف پالتو جانور پالنے کا شوق بڑھ رہا ہے تاہم شہری اپنے جانوروں کو تربیت نہیں دیتے جس کے باعث جانور کبھی بھی حملہ کردیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Court nay kutton kai malik ko giftaar kernay ka hukum dai diya,وکيل پرحملہ کرنےوالےکتوں کےمالک کوگرفتارکرنےکا حکم