کراچی:شہری پرحملہ کرنےوالےکتوں کے مالک کی عبوری ضمانت ميں توسيع

مقدمےمیں پاکستان پینل کوڈکی دفعات289،337 اور 34 شامل

کراچی کےعلاقے ڈيفنس ميں سينيئر وکيل پر حملہ کرنے والے کتوں کے مالک کی عبوری ضمانت ميں توسيع کردی گئی ہے۔

ڈیفنس کراچی میں سینیئر وکیل مرزا اختر ایڈووکیٹ پر پالتو کتوں کے حملے کا معاملہ تھانے کے بعد عدالت پہنچ گیا ہے۔ بدھ کو سیشن عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو کتوں کے مالک ہمایوں خان پیش نہیں ہوئے اور اُن کے وکیل نے میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کردیا۔ مرزا اختر ایڈووکیٹ کے وکیل  نعیم قریشی نے موقف اختیار کیا کہ ملزم ہمایوں خان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جعلی ہے،ملزم کا پاسپورٹ ضبط کرکے نام ای سی ایل میں ڈالاجائے۔

عدالت نےملزم ہمایوں خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے جمعہ 25 جون کو پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ سینیئروکیل مرزا اختر ایڈووکیٹ پر 16 جون کو صبح 6 بجے کتوں نے اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ اپنے گھر کے قریب واک کررہے تھے۔ اس واقعےکا مقدمہ درخشاں تھانے میں درج ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 289، 337 اور 34 شامل ہیں۔

زخمی شہری نے کتے کے مالک اور 2 ملازمين کیخلاف مقدمہ درج کروايا ہے جس کے مطابق صبح 6 بج کر 20 منٹ پر گھر کے پالتو کتوں نے ان پر حملہ کیا جس سے ان کا ہاتھ زخمی ہوگیا۔

مرزا علی نے پولیس کو بتایا کہ جب کتوں نے حملہ کیا تو 2 افراد آئے اوران کی مدد کرنے کے بجائے کتوں کو وہاں سے لے گئے۔واقعے میں زخمی ہونے والے مرزا اختر کو ایک شہری نے اپنی گاڑی میں فوری طور پر ضیاء الدین اسپتال کلفٹن منتقل کیا تھا۔

اینیمل ایکٹوسٹ صدف عارف کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو دیکھ کرلگتا ہے کہ دونوں پالتو کتوں کو تربیت نہیں دی گئی جبکہ اگر ویڈیو میں مالک کو دیکھا جائے جو انہیں روکنے کی کوشش کررہا ہے وہ بھی صحیح طریقے سے  تربیت یافتہ نہیں تھا۔ صدف عارف نے کہا کہ شہر میں مختلف پالتو جانور پالنے کا شوق بڑھ رہا ہے تاہم شہری اپنے جانوروں کو تربیت نہیں دیتے جس کے باعث جانور کبھی بھی حملہ کردیتا ہے۔

متعلقہ خبریں