کراچی:کمسن بچی کاریپ و قتل،2 پولیس افسران معطل

کراچی کے علاقے کورنگی ميں بچی کے ریپ اور قتل کیس میں پوليس کی نااہلی پر ایس ایچ او اور ڈیوٹی افسر معطل کر دیئے گئے۔

بدھ کے روز کورنگی نمبر 4 میں ایک کچرا کنڈی سے مذکورہ 6 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش ملی تھی، وہ کمسن بچی ایک روز قبل اُس وقت لاپتہ ہوئی جب علاقے ميں بجلی نہيں تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل سے پہلے بچی کا ریپ کیے جانے کی بھی تصدیق ہوئی جبکہ اس دوران اس پر بدترین تشدد بھی کیا گیا اور بچی کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی۔

بچی کے اہلخانہ اور محلہ داروں نے جب پولیس سے رابطہ کیا تھا، تب انہوں نے مبینہ بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس وہاں آکر کیا کرے گی۔ دوسری جانب بچی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس بر وقت اپنا فرض نبھا لیتی تو آج ان کی بچی زندہ ہوتی۔

اس حوالے سے محلے دار اور پوليس اہلکار کی کال ريکارڈںگ بھی سامنے آگئی جس پر پولیس حکام نے کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او زمان ٹاؤن ملک عامر اور ڈيوٹی افسر ذوالفقارعلی کو معطل کردیا۔

دریں اثناء پولیس اس کیس میں اب تک 10 مشتبہ افراد کو میڈیکل ٹیسٹ کی غرض سے حراست میں لے چکی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کے علاوہ قاتل کو پکڑنے کیلئے علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز سے بھی مدد لی جارہی ہے۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے جمعرات کو بھی بچی کے گھر اور جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور پوچھ گچھ کی تاہم بچی کے اہلخانہ پوليس کی کارکردگی سے مطمئن نہيں اور ان کا کہنا ہے کہ پولیس اس وقت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی جب بچی لاپتہ ہوئی تھی۔

پولیس قاتل کی تلاش ميں مصروف ہے اور تحقیقاتی کمیٹی نے بچی  کے والد اور اس کی کمسن بہن سے معلومات حاصل کرنے کے علاوہ اہل محلہ سے بھی پوچھ گچھ کی۔

بچی کے بھائی کا کہنا ہے کہ جتنی پھرتی پوليس آج دکھا رہی ہے اگر پہلے کچھ کرلیا ہوتا تو آج يہ دن نہ ديکھنا پڑتا۔ انہوں نے بتایا کہ بچی کے غائب ہونے کے بعد پولیس نے کہنا تھا کہ آپ لوگ خود ڈھونڈ لیں اور مل جائے تو ہمیں آگاہ کردینا۔ بھائی کی شکایت تھی کہ اگر پولیس بچی کو تلاش کرنے میں ہماری پہلے ہی مدد کر دیتی تو آج ان کی بہن زندہ ہوتی۔

غم سے نڈھال بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ پولیس آج آرہی ہے پہلے کہاں تھی، ملزم کو پکڑ کر میرے سامنے لایا جائے، میں خود اسے سزا دوں گی۔

متعلقہ خبریں