کراچی: آم کی بہار،پیٹی کے پہاڑاور میٹھی مہک

منڈی میں آم نے ہرخاص پھل کی چھٹی کردی

کراچی میں آم کی آمد ہوچکی اور یہاں کی فروٹ منڈی میں پھلوں کے بادشاہ نے آتے ہی دھوم مچادی ہے۔ جہاں پوری منڈی خاصی بڑی مقدار میں آئے سندھڑی ، سرولی اور لنگڑے کی خوشبو سے مہک رہی ہے وہیں اس پھل کو اپنے اندر سموئے لکڑی کی پیٹیوں کے پہاڑ بھی دکھائی دیتے ہیں۔

کراچی کی خاص فروٹ منڈی میں ہرجانب آم کا راج اور سودے اتنے بڑے بڑے ہو رہے ہیں کہ رقم کا لین دین رومالوں میں چھپا کرکیا جارہا ہے۔ گوسندھڑی کم میٹھا ہے لیکن پھر بھی دوسرے آموں کے مقابلے میں اس کی قیمت نسبتاً زیادہ ہے۔ اس کی 10 کلوکی پیٹی 700 روپے میں فروخت ہورہي ہے کی قیمت ستر سے پچھتر روپے فی کلو تک ہے۔

منڈی کے باہر آموں سے لدے ٹرکوں کی قطاریں ہیں اور آم اتنی تعداد میں فروٹ منڈی میں پہنچے چکے ہیں کہ پیٹیوں کے پہاڑ بن گئے ہیں لیکن یہ ڈھیر جس تیزی سے بنتے ہیں اتنی ہی تیزی سے ختم بھی ہوتے رہتے ہیں۔

رمضان میں کیلے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا تھا اور اس کی پیٹی 7 ہزار روپے میں بک رہی تھی لیکن آم کے میدان میں آتے ہی کیلے کی پیٹی 3 ہزار روپے پر آچکی ہے۔

بیوپاریوں کے مطابق رمضان کے آخر میں منڈی میں انٹری دینے والا آم اگست کے اختتام تک عوام کا منہ میٹھا کرتا رہے گا۔

کراچی منڈی میں ان دنوں آموں کی بہار ہے لیکن پھر بھی منڈی میں ایک کمی سی ہے اور وہ کمی پنجاب کے چونسے کی جو اس کی آمد پر ہی پوری ہوگی۔

سندھڑی اور چونسا پاکستان کے وہ آم ہیں جن کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے اور بین الاقوامی منڈیوں میں ان کے اترتے ہی بھارت سمیت دنیا بھر کے آموں کا کام ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں