کراچی تجاوزات کیس،’دکھاوے کی کارروائی کر کے پھر عمارتیں بنا دیں گے‘

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ بنچ نے کراچی رجسٹری نے شہر میں قائم متعدد عمارتوں کو غیر قانونی ہونے کے باعث فوری طور پر گرانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس دوران گجر اور اورنگی نالہ کے متاثرین کی جانب سے عدالت کے باہر احتجاج کیا گیا۔
بدھ کو کراچی میں سپریم کورٹ میں تجاوزات سے متعلق کیسز کی سماعت سماعت کے آغاز سے قبل ہی گجر اور اورنگی نالہ کے اطراف گھروں کو مسمار کیے جانے کے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد عدالت کے سامنے جمع ہونا شروع ہوگئی تھی، جس میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران سندھ ریونیو بورڈ کے سینیئر ممبر علم الدین بَلو عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 2007 سے سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ ڈیجیٹلائز کرنے کی بات کی جا رہی ہے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’سارا مسئلہ ریونیو بورڈ کا پیدا کردہ ہے۔ کسی کا نقشہ کہیں اور ڈال دیتے ہیں، کہیں کا ریکارڈ کہیں کر دیتے ہیں۔ آپ کا محکمہ کروڑوں اربوں روپے بنارہا ہے بیٹھ کر۔‘
اس کے جواب میں ریونیو بورڈ کے سینیئر ممبر کا کہنا تھا کہ پورے صوبے کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو گیا ہے صرف ٹھٹہ کا کچھ ریکارڑ باقی ہے جس کے لیے دو ماہ کی مہلت درکار ہے۔

عدالت نے کہا کہ ’اگر سرکاری زمینیں واگزار نہ کرائی گئیں تو سینیئر ممبر ذمہ دار ہوں گے۔‘
جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ’آپ کے معاملات ٹھیک نہیں۔ تین سال پہلے بھی آپ نے تین ماہ مانگے تھے۔‘ 
سپریم کورٹ نے تمام سرکاری زمینوں کو فوری واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے ان عمارتوں کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کیے۔
عدالت نے کہا کہ ’اگر سرکاری زمینیں واگزار نہ کرائی گئیں تو سینیئر ممبر ذمہ دار ہوں گے۔‘ عدالت عظمیٰ نے تمام رفاعی پلاٹوں کو بھی واگزار کرانے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ تین مہینوں میں سندھ بھر کی زمینوں کا مکمل ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے احکامات جاری کیے۔
مزید پڑھیں
عدالت کی جانب سے کراچی کا ماسٹر پلان موجود نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔ ریونیو بورڈ کے ممبر نے کہا کہ سروے مکمل کیا جا رہا ہے، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ آدھا کراچی ابھی تک سروے نمبر پر چل رہا ہے، جس کا عمومی مطلب ہے کہ یہ دیہی زمین ہے اور یہاں کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ ’لیکن کیا زمینی حقائق یہی ہیں؟ آپ لوگوں نے دھندا بنایا ہوا ہے ریونیو نے سارا کام خراب کیا ہے صرف مال بنا رہے ہیں۔ پورے کراچی اور سندھ کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے۔ ریونیو لینڈ کا یہاں کیا کام ہے؟ پراپر ماڈل نمبر دیے جائیں۔‘
سماعت کے دوران عدالت نے حکومتی اداروں کی جانب سے عدالتی احکامات کی پیروی کے حوالے سے جمع کروائی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ’ساری رپورٹس دیکھی ہیں ہم نے، دکھاوے کی کارروائی کرکے پھر عمارتیں بنا دیں گے۔ ملیر جاکر دیکھیں اونچی اونچی عمارتیں بنا دی، کورنگی برج کے سامنے سب غیر قانونی عمارتیں بن گئیں۔‘

گجر نالہ متاثرین نے آج بھی سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر احتجاج کیا 
عدالت نے کہا کہ ’یونیورسٹی روڈ پر چلے جائیں، گلستان جوہر چلے جائیں پندرہ، پندرہ منزلہ عمارتیں بن گئیں۔ یہ عمارتیں آپ کو نظر نہیں آتیں؟ یہ سب آپ کی ہیں؟ آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش مت کریں۔ نوری آباد تک چلے جائیں سب سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے عمارتیں بنا لی ہیں۔‘
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بورڈ آف روینیو کے سینیئر میمبر علم الدین بلو کراچی میں سرکاری زمین واگزار کرانے کی متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2019 سے 2021 تک  600 ایکڑ سے زائد زمین واہگزار کرائی گئی جس کے لیے 813 آپریشن کیے گئے ہیں۔
ان تین سالوں کے دوران 133 پبلک پارک کی زمین پر فارم ہاؤس اور کیٹل فارم ختم کیے گئے جبکہ سرکاری زمین پر قائم 67 شادی ہال سے زمین واگزار کرائی۔
سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے لیے 43 کلومیٹر تک ایک لاکھ 19 ہزار 528 سکوائر یارڈز زمین واگزار کرائی گئی۔ جبکہ کے ایم سی کی زمین پر پانچ فیکٹریاں، لان اور 726 دکان غیر قانونی بنائے گئے تھے وہ تمام زمینیں واگزار کروائی گئیں۔