کراچی: دماغ پر حملہ کرنیوالا ’’نیگلیریا‘‘ تیسری جان نگل گیا

دماغ پر حملہ کرنیوالے امیبیا نیگلیریا فاؤلیری نے کراچی میں رواں ماہ دوسرے شخص کی زندگی کا خاتمہ کردیا، اس سے قبل 2 جون کو نجی شپنگ کمپنی کے انوینٹری منیجر کا انتقال بھی اسی وائرس سے ہوا تھا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ حکومت کے نیگلیریا مانیٹرنگ اینڈ انسپیکشن (این ایم اینڈ آئی) ٹیم کے رکن شکیل احمد نے بتایا کہ ابوالحسن اصفہانی روڈ کے 40 سالہ رہائشی فیضان رسول غوری کو 26 جون کو بخار، سر اور گردن میں درد کی شکایت پر گلشن اقبال کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا تاہم وہ دوران علاج 28 جون کو انتقال کرگیا۔

شکیل احمد کا کہنا ہے کہ مریض کو 24 جون کو بخار ہوا جس پر اس نے کچھ ادویات لیں تاہم بخار بدستور برقرار رہا، 25 جون کو مریض کو چیک اپ کیلئے گلشن اقبال کے نجی ہیلتھ کیئر سینٹر لے جایا گیا۔

این ایم اینڈ آئی کے رکن نے مزید بتایا کہ حالت بگڑنے پر مریض کو دوبارہ اسی اسپتال لے جایا گیا تاہم اگلے روز اہل خانہ فیضان کو ڈاؤ یونیورسٹی اینڈ ہیلتھ سائنس، اوجھا کیمپس لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے اسے اسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا اور آئی سی یو میں بیڈز کی کمی کے باعث اسے گلشن اقبال کے ایک نجی اسپتال ریفر کردیا۔

ویڈیو: نیگلیریا کیا ہے؟ اس سے کیسے بچاجاسکتا ہے؟

مریض کی تفصیلات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے شکیل احمد کا کہنا ہے کہ 26 جون کو مریض کے مختلف ٹیسٹ کئے گئے جن میں سی ٹی برین، سینے کا ایکسرے اور سی ایس ایف شامل ہیں جبکہ کچھ نمونے ٹیسٹ کیلئے آغا خان یونیورسٹی اسپتال بھی بھجوائے گئے، اگلے ہی دن آغا خان یونیورسٹی اسپتال سے جاری رپورٹس میں تصدیق ہوگئی کہ مریض نیگلیریا فاؤلیری کا شکار ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 27 جون کو مریض کی حالت تشویشناک ہوگئی جس کے بعد اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا تاہم 28 جون کو فیضان انتقال کرگیا۔

شکیل احمد نے بتایا کہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر پتہ چلا ہے کہ مریض کو اپنے گھر کے پانی سے وضو کے دوران نیگلیریا لگا۔

مزید جانیے: نیگلیریاسے جاں بحق محمدعلی نے کینٹ اسٹیشن پرنماز اداکی تھی،اہلخانہ

انتقال کرنیوالے شخص کے قریبی عزیز حسبان خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ فیضان ایک مذہبی شخص اور پانچ وقت کا نمازی تھا، وہ اپنا ایک چھوٹا کاروبار چلاتا تھا تاہم کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث صوبائی حکومت کی جانب سے سخت پابندیاں لاگو ہونے کے بعد سے وہ گھر پر بیروزگار بیٹھا ہوا تھا۔

حسبان خان کا کہنا ہے کہ فیضان غوری تواتر سے نماز کیلئے مسجد جاتا تھا تاہم وضو گھر پر کرنا اس کی عام عادت تھی۔

متعلقہ خبریں