کراچی: دہشت گرد کارروائیوں میں را کے ملوث ہونےکےانکشافات

دہشت گرد فیصل بھٹی کی گرفتاری پر 30 لاکھ روپے مقرر

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی ریڈ بک میں سنگین جرائم میں ملوث دہشت گردوں کے نام شامل کئے گئے ہیں۔

کاؤنٹرٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ کی نئی ریڈ بک میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی مطلوب خطرناک دہشت گرد بھارتی خفیہ ایجنسی را سمیت دیگر غیرملکی انٹیلیجنس ایجنسیز کے تعاون سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریڈ بک میں سب زیادہ انعام کالعدم لشکر جھنگوی کے دہشت گرد فیصل بھٹی کی گرفتاری پر 30 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ملزم پربم دھماکے کرنے ، امریکی صحافی ڈینئل پرل کو اغوا اور قتل کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

دوسرے نمبر پر کالعدم داعش کا دہشتگرد محمود کا نام ہے جس پر 25 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔سانحہ صفورہ پر بس پر فائرنگ میں ملوث محمود کی تصویراس ریڈ بک میں موجود نہیں ہے۔ تاہم پہلی بار اس بک میں ایک خاتون ڈاکٹر کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ڈاکٹر سعدیہ جلیل دہشت گردوں اور انکے اہلخانہ کو خفیہ مقامات پر علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں ملوث رہی ہیں۔

کالعدم سپاہ محمد کے رضا امام پر 10 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔ رضا امام دہشت گردی کی کارروائی کے بعد پڑوسی ملک فرار ہوا تھا اور اب بھی وہیں مقیم ہے۔کالعدم سپاہ محمد کے سید احمد عباس کا نام بھی ریڈ بک میں شامل ہے۔ احمد عباس کراچی میں سلیپر سیلز کو آپریٹ کررہا ہے۔

کالعدم ایس آر اے کا اصغرعلی شاہ بھی مطلوب دہشت گردوں میں شامل ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے حرب یار مری بھی اس بک میں مطلوب ہےجس پر چینی قونصلیٹ پر حملے کا الزام ہے۔

کالعدم بےایل اے، ایس آر اے اور لیاری گینگ وار کو بھارتی خفیہ ایجنسی را دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے مالی معاونت فراہم کررہی ہے۔بک میں لیاری گینگ وار کے 33 ، کالعدم بی ایل اے 5 اور کالعدم ایس آر اے کے 4 دہشت گرد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ نے گرفتار ملزم حارث عرف فرحان کی انٹیروگیشن رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ کراچی میں کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قاتلانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ ان پیشہ ور قاتلوں کو بیرون ملک سے رقم کی ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔

کرائے کے قاتل حارث کے مطابق بیرون ملک میں موجود لیاری گینگ وار کے اہم کردار زاہد شوٹر نے رابطہ کیا اوراس کے احکامات پر پرانا گولیمار میں ارشد پپو گروپ پر حملہ کیا۔

متعلقہ خبریں