کراچی کا 25ارب 90کروڑ روپے کابجٹ رواں ہفتے پیش ہوگا

بلدیہ عظمیٰ کراچی کا 25 ارب 90 کروڑ روپے کا بجٹ 22-2021ء رواں ہفتے پیش کیا جائے گا، جس میں شہر قائد کیلئے 2 ارب 6 کروڑ روپے کے 16 ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔

کے ایم سی نے نئے مالی سال کے ایک کروڑ 19 لاکھ 40 ہزار روپے کے سرپلس بجٹ سے متعلق تفصیلات کو حتمی شکل دیدی۔ بلدیہ عظیٰ کراچی کے 20 ارب 90 کروڑ روپے کے بجٹ میں آمدن کا حصہ 893.21 ملین روپے ہے جبکہ اضلاع کے ایڈیشنل ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کیلئے 5 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔

کراچی کے 22-2021ء کے بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 16 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد لگایا گیا ہے، ہنگامی بنیادوں پر اخراجات کیلئے 2 ارب 11 کروڑ 30 لاکھ روپے جبکہ مرمت و بحالی کے کاموں کیلئے 20 کروڑ 17 لاکھ روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے شہر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 2 ارب 45 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کئے ہیں، بجٹ 22-2021ء میں شہر کیلئے 16 ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں۔

نمبر1۔ مچھلی چوک سے کینپ روڈ تک بہتری کیلئے 80 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

نمبر2۔ علامہ شبیر احمد عثمانی روڈ کی بحالی اور ترقی کیلئے 30 کروڑ روپے مختص۔

نمبر3۔ برساتی پانی کے نالوں کی صفائی کیلئے 12 کروڑ روپے۔

نمبر4۔ شہر کے تمام پلوں کے ایکپینشن جوائنٹس کی بہتری کیلئے 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

نمبر5۔  ذوالفقار آباد آئل ٹینکر ٹرمینل میں نکاسی آب کی لائنوں کی فراہمی اور ان کی تنصیب کا تخمینہ 10 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

نمبر6۔ ہپوڈروم کی مرمت و بحالی کیلئے 8 کروڑ 10 روپے کا تخمینہ۔

نمبر7۔ کلفٹن میں مچھلی گھر کی بہتری و ترقی کیلئے 8 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

نمبر8۔ شہر میں سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پلوں کی ترقی و بہتری کیلئے 8 کروڑ روپے مختلف کئے گئے ہیں۔

نمبر9۔ ایمپریس مارکیٹ سے متصل شہاب الدین مارکیٹ پر پارکنگ پلازہ کیلئے 7 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

نمبر10۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے اسپتالوں کیلئے وینٹی لیٹرز کی خریداری کا تخمینہ 6 کروڑ 80 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔

نمبر11۔ مائی کولاچی روڈ پر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و مرمت کیلئے 6 کروڑ روپے کا تخمینہ ہے۔

نمبر12۔ سڑکوں کے اطراف شجرکاری کیلئے 5 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

نمبر13۔ سفاری پارک اور چڑیا گھر کیلئے جانوروں / پرندوں کی خریداری کیلئے بھی 5 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

نمبر14۔ کے ایم سی اسپتالوں کیلئے طبی، الیکٹرانک اور دیگر آلات کی خریداری کیلئے 4 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

نمبر15۔ سفاری پارک اور چڑیا گھر کی ترقی و بہتری کیلئے 4 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

نمبر16۔ آغا خان پارک میں بیڈمنٹن پارک کی تعمیر کیلئے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

کے ایم سی 22-2021ء میں اپنی آمدن کہاں سے حاصل سے کرے گی؟

آکٹرائے ضلع ٹیکس ۔ 15 ارب 7 کروڑ 50 لاکھ روپے

ڈسٹرکٹ اے ڈی پی ۔ 5 ارب 10 لاکھ روپے

کے الیکٹرک پر واجب الادا ۔ ایک ارب 85 کروڑ روپے۔

لینڈ، اسٹیٹ، ضلعی آکٹرائے ٹیکس، انفورسمنٹ، کچی آبادیوں، پی ڈی اورنگی اور چارجڈ پارکنگ کی مد میں ۔ ایک ارب 70 کروڑ 80 لاکھ روپے۔

میونسپل یوٹیلٹی چارجز اینڈ ٹیکسیشن ۔ ایک ارب 31 کروڑ 20 لاکھ روپے۔

ثقافت، اسپورٹس اور تفریح ۔ 18 کروڑ 40 لاکھ روپے۔

ٹرانسپورٹ اور مواصلات ۔ 26 کروڑ 10 لاکھ روپے۔

ویٹرنری سروسز ۔ 22 کروڑ 20 لاکھ روپے۔

میونسپل سروسز 20 کروڑ 10 لاکھ روپے۔

کے پی ٹی پر واجب الادا ۔ 10 کروڑ روپے۔

ایس بی سی اے کے آمدن ۔ 10 کروڑ روپے۔

انجینئرنگ ۔ 9 کروڑ 50 لاکھ روپے۔

میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ۔ 8 کروڑ 10 لاکھ روپے۔

پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ۔ 3 کروڑ 50 لاکھ روپے۔

کاروباری اداروں اور سرمایہ کاری اشتہارات ۔ ایک کروڑ 50 لاکھ روپے۔

ایڈمنسٹریٹر سیکریٹری ۔ 11 لاکھ روپے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔ ایک لاکھ روپے۔

یہ کے ایم سی کا منتخب بلدیاتی حکومت (20-2016ء) کے بعد پہلا بجٹ ہے۔

گزشتہ چار سالوں میں کراچی کیلئے مختص بجٹ 21-2020ء میں 24 ارب 80 کروڑ روپے، 20-2019ء میں 26 کروڑ 40 لاکھ روپے، 19-20018ء کیلئے 27 ارب 10 کروڑ روپے اور 18-2017ء میں 27 ارب 10 کروڑ روپے رکھا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں