کراچی: کورنگی میں بچی کا ریپ و قتل، ایک لڑکی لاپتہ

بچی کی لاش کچرا کنڈی سے ملی، دوسری تاحال غائب

Your browser does not support the video tag.

کراچی کے علاقے کورنگی میں 2 مختلف خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، جن میں سے ایک کی بچی کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی جبکہ دوسرے گھر کی ایک بچی لاپتہ ہے۔

کورنگی نمبر 4 پاک غوثیہ روڈ پر کچرا کنڈی سے ایک 6 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش ملی جس پر پورے علاقے ميں خوف اور غم کی فضاء پھيل گئی۔ یہ کمسن بچی گزشتہ روز اُس وقت لاپتہ ہوئی جب علاقے ميں بجلی نہيں تھی۔

پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل سے پہلے بچی کا ریپ کیے جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے جبکہ اس دوران اس پر بدترین تشدد بھی کیا گیا اور بچی کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی۔

مقتول بچی کے چچا کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ساڑھے 9 بجے علاقے کی بجلی گئی ہوئی تھی اور باہر بچے کھیل رہے تھے، تاہم لائٹ آنے کے بعد بھی بچی نہیں واپس نہیں آئی تاہم گھر والوں کو کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ بچی کو کون کہاں لے گیا۔

جناح اسپتال کی ایم ایل او ڈاکٹر سمعيہ نے بتایا کہ بچی کے جسم سے ڈی این اے سمیت دیگر تمام سیمپل حاصل کرلئے گئے ہیں، جن کی رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوسکے گا کہ اس کا ریپ کتنے افراد نے کیا۔

اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کرلی۔ عمران اسماعيل کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے میں ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔

مذکورہ علاقے کے نزدیک ہی واقع کورنگی ساڑھے 5 نمبر میں ایک اور بچی 9 سالہ ثمرہ لاپتہ ہوگئی ہے جبکہ اس کے گھر والوں خصوصاً ماں اس سانحے پر غم سے نڈھال ہے۔

بچی کی والدہ سونیا کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی منگل کی دوپہر گھر سے باہر گئی تھی اور پھر واپس نہیں لوٹی۔ انہوں نے بتایا آج ایک بچی کی لاش بھی ملی ہے جس پر ان پر مزید خوف طاری ہوگیا ہے۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ اہل علاقہ کہتے ہیں کہ ایسے واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں لیکن ان کی روک تھام کیلئے اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔

جوں جوں وقت گزر رہا ہے اہلخانہ کی تشويش بڑھتی جارہی ہے۔ آئے روز کمسن بچوں کے لاپتہ ہونے اور ریپ کے بعد قتل کے بڑھتے واقعات پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سواليہ نشان ہيں۔

متعلقہ خبریں