کراچی کی طالبہ نے چلتےرکشے سےچھلانگ کیوں لگائی؟

نیو ایم اے جناح روڈ پر ایک لڑکی نے 13 جون کو چلتے رکشے سے چھلانگ دی۔ رکشہ ڈرائیور نے تو پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا لیکن سڑک پر موجود عوام نے اس لڑکی کو سہارہ دے کر سڑک کنارے فٹ پاتھ پر بٹھا دیا۔ یہ کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ لڑکی کون ہے اور اس نے چلتے رکشے سے چھلانگ کیوں لگائی اور رکشہ ڈرائیور سڑک پر گری لڑکی کی مدد کے لیے رکا کیوں نہیں۔
مذکورہ واقعے کے اگلے روز 14 جون کو سوشل میڈیا پر ایک یونیورسٹی طالبہ نے پوسٹ لگائی جس میں اس نے بتایا کہ وہ کھڈا مارکیٹ کی رہائشی ہے اور وہ معمول کے مطابق 13 جون کو صبح ساڑھے آٹھ بجے ویک اینڈ کلاس لینے کی غرض سے یونیورسٹی جانے کے لیے گھر سے نکلی جس کی خاطر اس نے ایک رکشہ کیا۔ رکشے میں سوار ہوتے ہی طالبہ اپنی ایک دوست سے موبائل فون پر بات کرنے لگی تاہم جیسے ہی رکشہ نیو ایم اے جناح روڈ پر پہنچا تو رکشہ ڈرائیور نے پستول نکال لیا۔
طالبہ کے مطابق رکشہ ڈرائیور نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے شور مچایا تو وہ اسے گولی مار دے گا جس کے بعد اس نے طالبہ کو ایک کالا چشمہ دیا جس کے اندر کالے رنگ کی ٹیپ لگی ہوئی تھی اور کہا کہ اسے پہن لو۔ طالبہ نے بتایا کہ اس نے رکشہ ڈرائیور سے سوال کیا کہ وہ اسے کہاں لے جا رہا ہے تو اس نے جواب دیا کہ وہ اسے اپنے گھر لے کر جا رہا ہے جس کے بعد طالبہ نے ناز پلازہ کے پاس تیز رفتار رکشے سے چھلانگ لگا دی۔
طالبہ نے لکھا کہ رکشے سے چھلانگ لگانے کے تھوڑی ہی دیر بعد کار میں سوار 2 خواتین اس کی مدد کے لیے آ گئیں اور اسے زخمی حالت میں اس کے گھر پہنچا دیا۔ طالبہ کے مطابق رکشہ ڈرائیور کی حرکات و سکنات دیکھ کر یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا تھا کہ وہ ایسی کوششیں وہ پہلے بھی کئی مرتبہ کر چکا ہے۔
ڈسٹرکٹ سٹی کے سینئر سپریٹینڈنٹ آف پولیس سرفراز نواز نے بتایا کہ طالبہ کی پوسٹ پر پولیس فورا حرکت میں آئی اور متاثرہ لڑکی سے فوری رابطہ کیا گیا۔ طالبہ کے بیان کی روشنی میں پولیس نے کھارادر اور نیو ایم اے جناح روڈ پر واقع سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزم اور رکشے کی شناخت کرلی۔
ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ ملزم وسیم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واردات میں استعمال ہونے والا رکشہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے جو کہ ملزم نے لیاری کلاکوٹ کے علاقے سے چوری کیا تھا۔ ملزم کے خلاف لیاری کے مختلف تھانوں میں چوری اور ڈکیتی کے 6 مقدمات بھی درج ہیں۔
سرفراز نواز کے مطابق ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ یونیورسٹی طالبہ کو تاوان کی غرض سے اغوا کرنا چاہتا تھا مگر اس نے چلتے رکشے سے چھلانگ لگا دی۔ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی تین طالبات کے ساتھ ایسا کر چکا ہے لیکن ہر دفعہ اسے ناکامی کا سامنا ہوا۔

متعلقہ خبریں