کراچی کے فائر اسٹیشن میں سبزیاں کاشت

حکام نے اعتراف کرلیا

آگ بجھانے والوں کے دفتر میں پیٹ کی آگ بجھانے کا سامان  کیا جانے لگا۔ بلدیہ ٹاؤن کے اسٹیشن میں عملہ اور فائر ٹینڈرز تو نہیں لیکن مختلف اقسام کی سبزیاں کاشت ہوئی نظر آتی ہیں۔

پالک، میتھی،دھنیا، پودینہ اور دیگر اقسام کی سبزیاں، یہ سب کچھ کراچی کے ایک سرکاری دفتر میں بھی کاشت ہو رہا ہے۔ بلدیہ ٹاؤن میں ڈھائی ایکڑ کے رقبے پر قائم کے ایم سی کا واحد فائر اسٹیشن جہاں پانی تو نہیں باقی بہت کچھ ہے۔ مکینوں کے مطابق علاقے میں آگ لگنے کی صورت میں گاڑیاں شیرشاہ سے آتی ہیں۔

ایک شہری نے بتایا کہ ان کے پاس تو پانی نہیں۔ پہلے تو ہائیڈرینٹ تھا۔ اب وہ بھی بند ہوگیا ہے۔ یہاں جب تک گاڑی پہنچے گہ تو آگ بجھ چکی ہوگی۔

بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتے فائر اسٹیشن کو فعال رکھنے کا عملہ سرکاری کاغذات میں تو موجود ہے  مگرحقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔

مرحوم اہلکار کی اہلیہ آمنہ بیگم نے سبزیاں اگانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر کھیت ایک غریب شخص نے لگایا ہے، اس نے افسر سے درخواست کی تھی۔ اگر یہاں پانی نا پہنچے تو بڑی بڑی جھاڑیاں آگ آتی ہیں اور قبضہ ہوجاتا ہے۔

چیف فائر افسرکا دعوی ہے کہ غیر فعال اسٹیشن کو قبضہ مافیا سے بچاؤ کیلئے سبزیاں اگائی گئی ہیں۔ نیا فائر ٹینڈرملنے کے بعد اسٹیشن فعال ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں