کرنٹ سےنوجوان کی موت، درخواست گزار کوجواب الجواب جمع کرانےکا حکم

Sindh-High-Court-1

فوٹو: سماء ڈیجیٹل

کراچی میں کرنٹ لگنےسےنوجوان کی موت پرلواحقین نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ کےالیکٹرک کو 2 کروڑ 70 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ میں کےالیکٹرک نے کرنٹ لگنےسےموت کا ذمہ دار نوجوان کوقرار دے دیا۔ کےالیکٹرک کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کروایا گیا کہ کرنٹ لگنے کا حادثہ نوجوان کی غفلت کے باعث پیش آیا۔کےالیکٹرک ہمیشہ بارش کے دوران شہریوں کواحتیاط کا پیغام دیتی ہے۔کےالیکٹرک کی ٹیم حادثے کے مقام کے قریب ہی کام کررہی تھی اورعلاقے میں کھلی اور ٹوٹی ہوئی تاریں دیکھ کرعلاقے کی بجلی بند کردی گئی تھی۔شام 06:45 پر کرنٹ پھیلنے کی شکایت پر بھی متعلقہ فیڈرز کی بجلی بند کی گئی اورنوجوان سعد شیخ کی موت کا ذمہ دار کےالیکٹرک نہیں ہے۔

کےالیکٹرک نےاپنےجواب میں یہ بھی کہا ہے کہ مون سون سیزن میں بجلی کی انسٹالیشنز اور تاروں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔کےالیکٹرک ایسے موسم میں صارفین کو ہر ممکن احتیاطی تدابیر کی اپیل کرتی ہے۔

کرنٹ لگنے سے انتقال کرجانےوالے نوجوان کے والد شیخ احمد حسین نے عدالت کو بتایا کہ ان کا بیٹا سعد شیخ گزشتہ سال بارش کے دوران کے الیکٹرک کی غفلت سےکھلی تاروں میں کرنٹ پھیلنےکی وجہ سےجاں بحق ہوا۔عدالت نےدرخواست گزار کوجواب الجواب جمع کرانےکا حکم دے دیا۔