کریمیا پر ڈرون حملے کا دعویٰ، ’روسی افواج الرٹ پر‘

کریمیا کو سال 2014 میں روس نے اپنے اندر ضم کر لیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

روس میں ضم شدہ یوکرینی جزیرہ نما علاقے کریمیا کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے، دوسری جانب ماسکو نے کہا ہے کہ اس کی فوج ’الرٹ‘ پر ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کریمیا پر ڈرون حملہ ایسے وقت پر ہوا جب یوکرین ایک طرف خیرسن کا قبضہ واپس لینے میں کامیاب ہو گیا ہے جبکہ دوسری طرف ماسکو نے کریمیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے سے متعلق بیان دیا ہے۔
کریمیا کے انتظامی علاقے سیوستاپول کے گورنر نے روس نواز ٹیلی گرام چینل کو بتایا کہ ڈرون سے حملہ ہوا ہے جبکہ دو ڈرون مار گرائے ہیں۔
مزید پڑھیں
گورنر نے بتایا کہ ڈرون حملے میں انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا تاہم شہریوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کی ہے۔
یوکرینی جزیرہ نما علاقے کریمیا کو سال 2014 میں روس نے اپنے اندر ضم کر لیا تھا۔ کریمیا پر روس کے انتہائی اہم فوجی اڈے قائم ہیں اور اسی علاقے کو یوکرین پر حملے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
گزشتہ چند ماہ سے یوکرینی افواج کی کریمیا کی جانب پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حال ہی میں خیرسن سے روسی افواج کا انخلا یوکرین کی بڑی فتح قرار دیا گیا ہے۔ 
خیرسن شہر وہ واحد علاقائی دارالحکومت ہے جس پر روس نے حملے کے بعد قبضہ کیا تھا اور یہ یوکرین کے جوابی حملے کا مرکز رہا ہے، جبکہ یہی شہر جزیرہ نما کریمیا تک جانے والا واحد زمینی راستہ ہے۔
رواں سال فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد سے کریمیا میں موجود روسی عسکری تنصیبات پر یا اس کے قریب کئی دھماکے ہو چکے ہیں، جبکہ اکتوبر میں سیوستاپول میں روسی نیوی کی بندرگاہ پر بھی حملہ ہوا تھا۔
دوسری جانب یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولبا نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ اس کی جانب سے تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
’اگر ہم یوکرینی نہیں تھکے تو باقی یورپ بھی تھکنے کا اخلاقی اور سیاسی حق نہیں رکھتا۔‘
یوکرینی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ روس پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں جس سے روس کی میزائل صنعت متاثر ہو سکے۔