’کرینہ کپور پر اعتراض کیوں، مرد مفت کام کرتے ہیں؟‘

کرینہ کپور اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد ایک بار پھر فلم انڈسٹری میں اپنا ’کم بیک‘ کرنے جا رہی ہیں۔
بالی وڈ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ انہیں میتھالوجیکل فلم ’سیتا‘ کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس کردار کے لیے کرینہ کپور نے فلم سازوں سے بارہ کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے جس پر انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین ’بیبو‘ پر تنقید کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
اداکارہ تاپسی پنو اس سارے معاملے پر کرینہ کپور کے دفاع میں سامنے آئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کرینہ کپور کا حق ہے کہ وہ بھاری معاوضے کا مطالبہ کریں۔
تاپسی پنو کا کہنا ہے کہ یہ صنفی تعصب کی نشانی ہے کہ زیادہ معاوضے کا تقاضا کرنے پر صرف خواتین پر تنقید کی جاتی ہے اور اگر مرد ایسا کرتا ہے تو اسے اس کی کامیابی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق تاپسی پنوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’تاپسی پنو کا کہنا ہے کہ یہ صنفی تعصب کی نشانی ہے کہ زیادہ معاوضے کا تقاضا کرنے پر صرف خواتین پر تنقید کی جاتی ہے اور اگر مرد ایسا کرتا ہے تو اسے اس کی کامیابی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘
 

تاپسی پنو کا کہنا ہے کہ یہ صنفی تعصب کی نشانی ہے کہ زیادہ معاوضے کا تقاضا کرنے پر صرف خواتین پر تنقید کی جاتی ہے (فوٹو: انسٹاگرام)
انہوں نے کہا کہ ’اگر اس صورتحال میں کوئی مرد ہوتا جو بھاری رقم کا مطالبہ کرتا تو پھر کہا جانا تھا کہ ’اس کی مارکیٹ بڑھ گئی ہے۔‘ جیسے کہ اس مرد نے زندگی میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ہو۔ لیکن کیونکہ ایک عورت یہ تقاضا کر رہی ہے تو اسے ’زیادہ مطالبہ کرنے والی‘ کہا جا رہا ہے۔‘
تاپسی نے کہا کہ ’آپ ہمیشہ خواتین کے ساتھ ہی بھاری معاوضے پر مسئلے کے بارے میں پڑھیں گے لیکن کیوں نہیں؟ وہ ہمارے ملک کی ایک بڑی سپرسٹار ہیں۔ اگر وہ کسی رقم کا مطالبہ کر رہی ہیں تو یہ ان کا کام ہے۔ کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ متھالوجیکل کردار کرنے والے مرد مفت میں کام کرتے ہیں؟ میرا نہیں خیال۔‘
انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین اس بات پر بھی اعتراض کر رہے ہیں کہ ’کرینہ کپور تیمور علی خان کی ماں ہیں اس لیے وہ ’سیتا‘ کا کردار نہیں کر سکتیں۔