کسی کے دباؤ میں آکر چین سے تعلقات تبدیل نہیں کریں گے،عمران خان

پاکستان کے لیے سی پیک کا اگلہ مرحلہ بہت حوصلہ افزا ہے

وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا، چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے۔ پاکستان کے لیے سی پیک کا اگلہ مرحلہ بہت حوصلہ افزا ہے۔

جمعرات کو چینی میڈیا کے نمائندوں کے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ انتہائی قریبی بہترین اور گہرےتعلقات ہیں تاہم میڈیا اور ثقافتی تعلقات اتنے گہرےنہیں جتنےسیاسی ہیں۔ دونوں ملکوں کےتعلقات وقت کےساتھ مضبوط ہورہےہیں۔ چین نے غربت سے  جس طرح اپنی 70 کروڑ عوام کو نکالا ہے وہ  حکمت عملی قابل تعریف ہے اور اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین  پاکستان  کی مختلف شعبوں میں مددکررہاہے اور سی پی سی ایک  منفرد ماڈل ہے جس سے اس خطے کا فائدہ ہوگا۔کمیونسٹ پارٹی  کا تربیتی نظام انتخابی جمہوریت سے بہتر ہے۔ عمران خان نے کہا کہ چینی  صدر شی جن پنگ کو جدید دور کا عظیم سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان چین کےساتھ سیاسی،اقتصادی اورتجارتی تعلقات کی مضبوطی کاخواہاں ہے۔ سی پیک بیلٹ اینڈروڈ اقدام ایک کلیدی منصوبہ ہے۔ انھوں نے نشان دہی کی کہ پاکستان میں لیبرسستی ہے اس لئےامید ہے کہ چینی صنعت کاراس طرف متوجہ ہوں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کرپشن کے خلاف اقدامات کے لیے پُرعزم ہے۔کرپشن سےایلیٹ طبقہ فائدہ حاصل کرتا ہےاورغریب متاثر ہوتا ہے۔مغربی جمہوریت کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بہترین نظام ہے تاہم سی پی سی نے ایک ایسا متبادل نظام دیا جس نے تمام مغربی جمہوریتوں کومات دی۔

ویکسین سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ چین نے کرونا ویکسین  پاکستان کو عطیہ کی جس  پر ان کے شکرگزار ہیں۔ بلاشبہ چین نے ہرمشکل وقت میں پاکستان مدد کی ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان تعلقات میں جانبداری کا مظاہرہ کیوں کرے،سب سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔وزیراعظم نےزور دے کر کہا کہ سنکیانگ سے متعلق چین کے موقف کو تسلیم کرتے ہیں اور چینی قیادت پراعتماد ہے۔ سنکیانگ کے حوالے سے مغربی میڈیا،حکومتوں اور چین کے موقف میں فرق ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کشمیر سمیت دنیا میں نا انصافی کےمتعدد واقعات ہوئے لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کیے جارہے ہیں لیکن مغربی میڈیا کی کم کوریج منافقانہ رویہ ہے۔

عمران خان نے یہ بھی واضح کردیا کہ پاکستان اورچین کے تعلقات پرانے ہیں اور اس کا بھارت کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ خطےکی صورتحال کےحوالےسےچین اورامریکہ کے اختلافات سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں