’کشمیریوں کا فیصلہ اسلام آباد کو بھی ماننا پڑے گا اور دہلی کو بھی‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کے انتخابات تاریخ کے اہم ترین الیکشنز ہیں جن سے سرحد کے اُس پار اور اِس پار پیغام جائے گا کہ ’کشمیر پر سودا نامنظور ہے۔‘
بدھ کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے عباس پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کون کہتا ہے کہ کشمیر سے پیپلز پارٹی ختم ہو گئی۔
’ہماری جماعت کل بھی زندہ تھی، آج بھی زندہ ہے۔‘ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اسلام آباد اور بنی گالہ کا رخ کریں گے اور کٹھ پتلیوں کو بھگائیں گے۔
انہوں نے جلسے میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کیا آپ کشمیر میں بھی کٹھ پتلی اور نااہل حکومت چاہتے ہیں؟
مزید پڑھیں
پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا اگر نہیں، تو پھر آپ کو پیپلز پارٹی کا ساتھ دینا پڑے گا۔
’اگر آپ ہمارا ساتھ دیتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کا راستہ نہیں روک سکتی۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ہیں۔ بقول ان کے ’ہم انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی کامیابی کے لیے دعا نہیں مانگتے اور نہ ہی کبھی شادیوں  میں ان کو دعوت دی۔‘
انہوں نے مریم نواز اور شہباز شریف کے نام لیے بغیر ان کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ’آر پار کا سفر پاؤں پکڑنے تک پہنچ چکا ہے۔‘ 
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کسی کے پاؤں نہیں پکڑیں گے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے۔‘
بلاول بھٹو نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب ان کو سیلیکٹڈ کہا تو انہوں نے ڈیسک بجانا شروع کر دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ اب میری تقریر کے موقع پر پارلیمنٹ میں موجود نہیں ہوتے کہ کہیں پھر ڈیسک نہ بجا دیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم میں شمولیت کا اشاارہ دیا لیکن ساتھ ہی ایک شرط بھی رکھی (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ جب مودی حکومت انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ظلم کرتی ہے تو ہمارا وزیراعظم کہنا ہے کہ ’میں کیا کروں‘
ان کے مطابق ’ہم جیالے ہیں ہمیں ایک ہزار سال تک لڑنا پڑا تو بھی لڑیں گے۔‘ بلاول بھٹو کا کہنا تھا جو فیصلہ کشمیری کریں گے وہ اسلام آباد کو بھی ماننا پڑے گا اور دہلی کو بھی۔
انہوں نے بجٹ کے موقع پر مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کی جانب سے اپنائی جانے والی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی پی نے بجٹ میں بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا پروگرام بنایا تھا مگر اِدھر دیکھا اُدھر دیکھا تو دوست غائب تھے۔

’کیا شہباز شریف اپنے ان ارکان کو شوکاز نوٹس بھیجیں گے جو بجٹ کے روز پارلیمنٹ میں موجود نہیں تھے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ان ممبران کو شوکاز بھیجیں گے جو اس روز غائب تھے۔ بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان کو بھی یاد دلوایا کہ وہ بھی اپنے ان چار ممبران کو پکڑیں جو اس روز غائب ہوئے۔
بلاول بھٹو نے پی ڈی ایم میں شمولیت کا اشارہ دیتے ہوئے ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی کہ ’ہمارے موقف پہ آ جائیں، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ہو گا تو ہمارے ارکان حاضر ہیں۔‘
انہوں نے طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ نے اتحاد میں نہاری اور حلوہ ہی کھانا ہے تو ایسے اتحاد کا کوئی فائدہ نہیں۔‘