’کشمیر پر انڈیا کی کانفرنس ناٹک تھی، جو ناکام رہی‘

پاکستان کے وزیر داخلہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دلی میں کشمیر پر اے پی سی ایک ناٹک تھی جو ناکام ہوئی اور اس کا کوئی حاصل وصول نہیں۔
جمعے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس کے ذریعے انڈیا نے خفت مٹانے اور اپنا امیج بحال کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔
مزید پڑھیں
ان کے مطابق گنے چنے لوگوں کو  کانفرنس میں بلایا گیا اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت کو دعوت نہیں دی گئی۔
انہوں نے انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اعتراف کیا کہ دلوں کی دوری ہے اور کشمیری دلی سے دور ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملاقات کرنے والی کشمیری قیادت کو پانچ اگست کا اقدام واپس لیے جانے پر کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ انڈیا نے کل عالمی سطح پر اپنا تاثر بہتر کرنے کی ناکام کوشش کی۔
ان کے بقول ’کشمیر پر انڈیا کی کانفرنس نشستن، گفتن، برخاستن کی عمدہ مثال تھی۔‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’اے پی سی میں کشمیریوں کی حریت قیادت کو دعوت نہیں دی گئی‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں جغرافیائی تبدیلی کا معاملہ ہر فورم پر اٹھایا ہے۔
افغانستان میں امن کی صورت حال کی بہتری کے لیے یو این فورس کی آمد کے حوالے سے پو چھے گئے سوال پر شاہ محمود قریشی کہنا تھا کہ ’یو این فورس کا کوئی ایسا کوئی پروگرام ہمارے علم میں نہیں ہے۔‘
افغانستان میں مستقبل قریب میں ترکی کے کردار کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی شنید تھی کہ کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول ترک فوج کو دیا جائے گا تاہم اس پر حکومت، ترکی یا طالبان کے موقف کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیو کلیئر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔