کشمیر کو ’انڈین نقشے‘ سے الگ دکھانے پر ٹوئٹر کے خلاف شکایت درج

ایک ہندو تنظیم نے ٹوئٹر کے مینجنگ ڈائریکٹر کے خلاف انڈیا کے نقشے سے جموں و کشمیر اور لداخ الگ دکھانے کے الزام کے تحت شکایت درج کرائی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی سوشل میڈیا کمپنی سے متعلق شکایت میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے انڈین علاقوں کو  نقشے سے باہر دکھایا ہے۔
اترپردیش کے بلند شہر میں سخت گیر ہندو تنظیم بجرنگ دل نے ٹوئٹر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔
مزید پڑھیں
ٹوئٹر پر جموں و کشمیر کے خطے جس کی ملکیت کا پاکستان اور انڈیا دونوں ٰدعویٰ  کرتے ہیں اور لداخ کو انڈیا کے نقشے سے باہر دکھایا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں رواں ہفتے سوشل میڈیا پر بھی خاصا شورشرابا بھی رہا۔
ٹوئٹر نے فوری طور پر اس معاملے پر روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا تاہم منگل کو اس کی ویب سائٹ پر نقشہ نظر نہیں آیا۔
پولیس کو درج کرائی شکایت میں انڈیا میں ٹوئٹر کے سربراہ منیش مہیشوری اور ایک دوسری کمپنی کے ایگزیکٹو کے خلاف انڈین قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔
سخت گیر تنظیم بجرنگ دل کے رہنما پروین بھاٹی نے پولیس کو اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ’اس اقدام سے میرے اور انڈین عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔‘
رواں مہینے اترپردیش کی پولیس نے انڈیا میں ٹوئٹر کے سربراہ منیش مہیشوری کو مبینہ طور پر مذہبی تنازعے کو ہوا دینے والی ایک ویڈیو کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی پر طلب کیا تھا۔

انڈین ٹیکنالوجی وزیر نے بھی ٹوئٹر پر قوانین کی پابندی نہ کرنے پر تنقید ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
منیش مہیشواری کو اس سلسلے میں عدالت سے ریلیف ملا تھا۔
انڈیا کے ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر نے بھی ٹوئٹر پر انڈین قوانین کی پابندی نہ کرنے اور ان کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی دینے سے انکار پر تنقید کی ہے۔
گذشتہ برس انڈیا کے زیرانتظام علاقے کو چین حصہ دکھانے پر انڈین پارلیمنٹری پینل نے ٹوئٹر پر نئی دہلی کی خودمختاری کی توہین کا الزام عائد کیا تھا۔
ٹوئٹر نے اس پر معذرت کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے جلد ہی غلطی کی تصحیح کی۔