کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی؟ مودی کی کشمیری رہنماؤں کو اے پی سی کی دعوت

وزیراعظم نریندر مودی انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے معاملے پر آئندہ ہفتے کل جماعتی اجلاس کی صدارت کریں گے۔
انڈیا ٹو ڈے کے مطابق 24 جون کو ہونے والے اجلاس کے لیے غیر رسمی دعوت نامے تمام اہم کشمیری رہنماؤں کو بھیج دیے گئے ہیں۔
انڈین زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے انڈیا ٹو ڈے سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان کو بھی دعوت نامہ موصول ہوا ہے تاہم اس سے متعلق مشاورت کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
وادی کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے اختتام کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کا حالیہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اجلاس سے متعلق خبریں سامنے آئی ہیں کہ مرکز کی جانب سے وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور دیگر اہم مسائل زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
وادی کشمیر کے ایک اور اعلیٰ رہنما نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہیں بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے۔ رہنما کا کہنا تھا کہ فی الحال انہیں اجلاس کے موضوع کے حوالے سے علم نہیں تاہم وہ رسمی دعوت نامے کا انتظار کریں گے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق حکومت نے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس کے لیے جموں اور کشمیر کی مرکزی جماعتوں سے رابطے کیے ہیں تاکہ وادی میں حد بندی اور حلقہ بندی سے متعلق معاملات پر بات چیت کی جائے۔

اگست 2019 میں وادی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔ فوٹو اے ایف پی
یہ اجلاس ایسے وقت پر بلایا گیا ہے جب نومبر یا آئندہ سال کے شروع میں کشمیر میں انتخابات متوقع ہیں۔
فی الحال جموں اور کشمیر سے تعلق رکھنے والی کم سے کم نو جماعتوں کو دعوت دی گئی ہے، تاہم اجلاس میں 16 جماعتوں کے شریک ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ انڈین حکومت کی جانب سے پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔ خصوصی حیثیت کے خاتمے کے تقریباً تین ماہ بعد مرکزی حکومت نے باقاعدہ طور پر متنازع خطے جموں و کشمیر کو دو وفاقی حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔
جموں و کشمیر کو ’یونین ٹیریٹری آف جموں اینڈ کشمیر‘ کا درجہ دے دیا گیا تھا جس کے بعد وادی کشمیر میں مرکزی حکومت کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔